نگران نیوز
سری نگر/ / جموں و کشمیر حکومت کے مختلف محکموں اور مرکزی حکومت کے اداروں پر مجموعی طور پر 4,385.30 کروڑ روپے کے بجلی کے واجبات بقایا ہیں، جبکہ 6.83 فیصد بجلی ٹیرف میں اضافے کے باوجود یوٹی حکومت کو بجلی کی خریداری کے اخراجات پورے کرنے کے لیے 4,500 کروڑ روپے سے زیادہ کی سبسڈی برداشت کرنا پڑے گی۔ پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ بجلی واجبات محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پر 1,476.11 کروڑ روپے ہیں۔ اس کے بعد محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول کے 594.25 کروڑ روپے کے واجبات ہیں۔مرکزی ریزرو پولیس فورس پر 344.30 کروڑ، محکمہ داخلہ پر 297.93 کروڑ اور میونسپل اداروں پر 262.75 کروڑ روپے کے بجلی واجبات ہیں۔دیگر بڑے نادہندگان میں فوج کے 212.75 کروڑ، محکمہ مال و ریلیف کے 170.60 کروڑ، ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ کے 166.40 کروڑ اور خود پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے 123.73 کروڑ روپے کے واجبات شامل ہیں۔محکمہ صحت و طبی تعلیم پر 100.19 کروڑ جبکہ ملٹری انجینئرنگ سروسز کے ذمے 89.50 کروڑ روپے بقایا ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق کشمیر وادی میں گھریلو صارفین سے حاصل ہونے والی بجلی کی آمدنی مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر 1,455.90 کروڑ روپے ہوگئی، جو 2024-25 میں 1,238.07 کروڑ روپے تھی۔2025-26 میں میٹر والے صارفین سے 860.29 کروڑ جبکہ فلیٹ ریٹ صارفین سے 595.61 کروڑ روپے حاصل ہوئے۔ اس سے پچھلے مالی سال میں میٹر والے صارفین سے 511.25 کروڑ اور غیر میٹر شدہ فلیٹ ریٹ صارفین سے 726.82 کروڑ روپے کی وصولی ہوئی تھی۔مالی سال 2026-27 میں اگست تک کشمیر میں گھریلو بجلی کی آمدنی 547.79 کروڑ روپے رہی، جس میں میٹر والے صارفین سے 383.08 کروڑ اور فلیٹ ریٹ صارفین سے 164.71 کروڑ روپے حاصل ہوئے۔کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ نے اکتوبر 2024 سے اب تک کشمیر میں 5,73,955 اسمارٹ میٹر نصب کیے ہیں۔ 2024 کے اکتوبر اور نومبر میں کوئی اسمارٹ میٹر نصب نہیں کیا گیا، جبکہ دسمبر میں 17 میٹر نصب ہوئے۔ 2025 میں تنصیب کی رفتار میں اضافہ ہوا اور اکتوبر 2025 میں 34,077 جبکہ دسمبر میں 41,772 اسمارٹ میٹر نصب کیے گئے۔2026 میں جنوری میں 43,420، فروری میں 46,151 اور اپریل میں 54,061 اسمارٹ میٹر نصب کیے گئے، جو مذکورہ مدت میں کسی ایک ماہ کے دوران سب سے زیادہ تعداد تھی۔ مئی میں 46,294، جون میں 45,039، جولائی میں 37,719 اور اگست میں 31,282 میٹر نصب کیے گئے، جبکہ ستمبر میں فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق مزید 6,424 اسمارٹ میٹر نصب کیے گئے۔










