نگران نیوز
سری نگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں و کشمیر میں عدالتی افسران کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھا کر 62 سال کرنے کی منظوری دے دی ہے، اور یہ فیصلہ 31 مارچ 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔محکمہ قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کی جانب سے جاری کردہ حکومتی حکم نامے کے مطابق، یہ فیصلہ سپریم کورٹ آف انڈیا کی جانب سے ٓل انڈیا ججز ایسوسی ایشن و دیگر اور متعلقہ معاملات میں جاری کردہ ہدایات کی تعمیل میں کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنی متعلقہ ہائی کورٹس کے ساتھ مشاورت کے بعد عدالتی افسران کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھا کر61 یا 62 سال کرنے پر غور کریں۔22 جولائی اور 5 اگست 2026 کے احکامات کے ذریعے سپریم کورٹ نے مزید ہدایت کی کہ جہاں بھی اس اضافے پر اتفاق کیا جائے، اس کا اطلاق 31 مارچ 2026 سے ہوگا، اور اس کا فائدہ ان عدالتی افسران کو بھی ملے گا جو مذکورہ تاریخ یا اس کے بعد ریٹائر ہوئے ہوں، بشرطیکہ وہ مقررہ شرائط پر پورا اترتے ہوں۔اس کے بعد جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر اور لداخ کی ہائی کورٹ کے ساتھ مشاورت سے اس معاملے پر کارروائی کی۔ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل نے 30 جولائی اور 12 اگست کو بھیجے گئے مراسلوں کے ذریعے 10 اگست کو ہونے والے فل کورٹ (مکمل عدالتی بنچ) کے اجلاس کے نتائج سے آگاہ کیا، جس میں فل کورٹ نے ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھا کر62 سال کرنے کی سفارش کی تھی۔ اس تجویز کو بعد ازاں9 ستمبر 2026 کو محکمہ خزانہ کی منظوری حاصل ہوئی، جس کے بعد کونسل آف منسٹرز نے 22 ستمبر 2026 کے فیصلے نمبر 146/12/2026 کے ذریعے اسے باضابطہ منظوری دی۔










