نگران نیوز
سری نگر// وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں ملازمت فراہم کرنے کے نام پر مبینہ دھوکہ دہی کے معاملے میں پولیس نے 2 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ایس ایس پی بڈگام ہری پرساد نے ایک پریس کانفرنس میںبتایا کہ پولیس نے ملازمت کے خواہشمند افراد کو جعلی تقرری ناموں اور سرکاری ملازمتوں کے وعدوں کے ذریعے مبینہ طور پر دھوکہ دینے کے الزام میں2افراد کو حراست میں لیا ہے۔گرفتار شدگان کی شناخت جہانگیر احمد ڈار، ولد غلام محمد ڈار، ساکن رٹھسن بیروہ، اور فردوس نبی بٹ، ولد غلام نبی بٹ ساکن زبگل بیروہ، کے طور پر ہوئی ہے۔ فردوس نبی جموں و کشمیر پیپلز فرنٹ کے چیئرمین بھی بتائے جاتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ باضابطہ شکایات موصول ہونے کے بعد دونوں سے پولیس اسٹیشن بیروہ میں پوچھ تاچھ جاری ہے۔ایس ایس پی کے مطابق، ملزمان نے مبینہ طور پر جعلی تقرری نامے جاری کرکے اور سرکاری و پرکشش ملازمتیں دلانے کا یقین دلا کر بڈگام کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے متعدد ملازمت کے خواہشمند نوجوانوں کو نشانہ بنایا۔ پولیس اس معاملے سے متعلق موصولہ شکایات اور مبینہ فراڈ کے طریقہ کار کی باریک بینی سے تحقیقات کر رہی ہے۔تحقیقات کے دوران پولیس کو ایک اہم سراغ اس وقت ملا جب وزارت داخلہ کی جعلی مہروں والی ایک مبینہ جعلی سرکاری دستاویز برآمد کی گئی۔ایس ایس پی کے مطابق یہ دستاویز مبینہ طور پر اْس وقت کے مرکزی سیکرٹری داخلہ گووند موہن کے نام سے جاری کی گئی تھی اور جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلین پربھات کے نام مخاطب تھی۔پولیس کے مطابق مذکورہ جعلی مراسلے میں مرکزی وزارت کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے بڈگام کے مختلف دیہات سے تعلق رکھنے والے10 نوجوانوں کو جموں و کشمیر پولیس میں اسپیشل پولیس آفیسرز (SPOs) کے طور پر تعینات کرنے کی ہدایت ظاہر کی گئی تھی۔ایس ایس پی نے بتایا کہ اس مبینہ فراڈ کے سلسلے میں اب تک 3 ایف آئی آر درج کی جاچکی ہیں، جن میں پولیس اسٹیشن بیروہ میں درج ایف آئی آر نمبر 183 اور 188 بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بیروہ میں ایک زیرو ایف آئی آر بھی درج کی گئی تھی، جسے بعد میں پولیس تھانہ بڈگام منتقل کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ معاملے کی تفتیش ان کی نگرانی میں ایس ایچ او بیروہ مدثر نذیر کی سربراہی میں پولیس ٹیم کر رہی ہے۔










