نگران نیوز
سری نگر//ماحولیاتی ماہرین کاکہناہے کہ موسمیات اور ماحولیات کاایک دوسرے سے گہراور قریبی تعلق ہے ۔صوتی آلودگی کسی خطے کے مجموعی ماحولیات پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے اور صوتی آلودگی اوراُفق کو پراگندہ کرنے میں گاڑیوں کابنیادی رول ہوتا ہے ۔جموں و کشمیر میں رجسٹرڈ گاڑیوں (عوامی/تجارتی اور نجی دونوں) کی کل تعداد تقریباً 27.36 لاکھ سے 28.88 لاکھ کے درمیان ہے۔ جولائی2026 میں مرکزی وزارت روڈ ٹرانسپورٹ اینڈ ہائی ویز کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، گاڑیوں کی درجہ بندی کے نئے فریم ورک کے تحت جموں و کشمیر میںکل 19لاکھ 50ہزار930 گاڑیاں فعال حالت میں موجود ہیں۔یکم اپریل 2026 تک جموں و کشمیر میں727 پٹرول پمپس ہیں۔ جو 2023 کے مقابلے میں7.39 فیصد اضافہ ہے۔ ان مقامات میں سے413 پیٹرول پمپس (جو جموں و کشمیر میں موجود تمام پیٹرول پمپس کا 56.81 فیصد ہیں) انفرادی مالکان کے زیر انتظام ہیں، جبکہ باقی 314 (جو43.19 فیصد ہیں) بڑے برانڈز کا حصہ ہیں۔ سب سے زیادہ پیٹرول پمپس والے 3 بڑے شہر یہ ہیں: جموں (145 پیٹرول پمپس)، سری نگر (100 پیٹرول پمپس)، اور پلوامہ (43 پیٹرول پمپس)۔ جموں و کشمیر میں پیٹرول پمپس کی اوسط عمر4 سال اور 6 ماہ ہے۔پیٹرول پمپس مختلف پلیٹ فارمز پر اپنی مضبوط ڈیجیٹل موجودگی بھی قائم کر رہے ہیں: 49 کے لنکڈ اِن (Linkedin)) پروفائلز ہیں،262 کے فیس بک پیجز ہیں، 259 انسٹاگرام پر فعال ہیں، 260 کے ٹوئٹر ہینڈلز ہیں، اور 259 کے یوٹیوب چینلز ہیں۔ تقریباً 336 پیٹرول پمپس کی اپنی ویب سائٹ ہے جبکہ باقی 391 کی اپنی ویب سائٹ نہیں ہے۔جموں وکشمیرکے خطے میں سینکڑوں فیول اسٹیشنز کام کر رہے ہیں جن کا انتظام پبلک سیکٹر کے اداروں (PEUS) جیسے کہ انڈین آئل (Indian-Oil)، بھارت پیٹرولیم (BPCL)، اور ہندوستان پیٹرولیم (HPCL) کے پاس ہے۔ ماحول دوست تبدیلی (green-shift) کا ایک نمایاں عمل جاری ہے، جس کے تحت سری نگر میں تقریباً 70 فیصد پیٹرول پمپس نے روایتی گرڈ بجلی اور ڈیزل جنریٹرز پر انحصار کم کرنے کے لیے چھت پر نصب شمسی توانائی کے نظام اپنا لیے ہیں۔ آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات: بہت سے اسٹیشنز میں گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں کی نگرانی کے لیے لازمی آلودگی کنٹرول سرٹیفیکیشن(PUC )مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ساتھ ہی یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ سبزہ زاروں کو ختم کرکے وہاں کنٹکریٹ فرش بچھانے سے لیکر ایک کے بعد ایک بڑے سڑک پروجیکٹ کس حدتک جموں وکشمیرکے ماحولیاتی توازن کو بگاڑ چکے ہیں اور کیا نئے سڑک منصوبوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے ،کیونکہ نئی اور کشادہ شاہراہیں اور سڑکیں تعمیر کئے جانے سے زرعی اور دوسری پیداواری اراضی کاوجود مٹ رہاہے اور ان شاہراہوں اور سڑکوںکے دونوں اطراف قریبی زمینوںکے بنجر بن جانے کا خطرہ بڑھتا دکھائی دے رہاہے۔










