کشمیر دنیا بھر میں مختلف وجوہات سے جانا جاتا ہے جن میں یہاں کا زعفران ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ زعفران جیسی ورثے کی فصل اس وقت شدید بحران سے دوچار ہے اور اس کے کاروبار سے جڑے افراد اور کنبے پریشان نظر آرہے ہیں۔ زعفران کی پیداوار میں مسلسل کمی پر قابو پانے کی کوششوں کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے۔ زعفران کاشتکاروں اور کاروباریوں کا ماننا ہے کہ جب تک زعفران کو مناسب اور موثر آبپاشی کی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں تب تک اس کی پیداوار میں کسی بھی صورت میں اضافہ نہیں ہوسکتا ہے کاشتکاروں کی خواہش ہے کہ انتظامیہ اس ورثہ کی فصل کو بچانے کیلئے کاشتکاروں کی ہر ممکن مدد کرے۔ سال گزشتہ کے دوران کم پیداوار نے ان ہزاروں خاندانوں اور اس سے جڑے تجارت پیشہ افراد جن کی روزی روٹی زعفران پر منحصر ہے کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ رواں سال کی موسمی صورتحال کے دوران طویل خشکی، آبپاشی کیکمی نے اجتماعی طور پر اس کی کمی میں اہم کردار نبھایا ہے جس سے کاشتکاروں کو بھاری نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔ناخوشگوار موسم کیساتھ ساتھ آبپاشی کی کمی سے کاشتکاروں کی سالانہ آمدن بری طرح متاثر ہوچکی ہے جبکہ اس سے وراثتی فصل کا وجود بھی خطرے میں پڑچکا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ پانپور قصبہ کے گردو نواحی علاقے زعفران کی اس فصل سے بھڑے پڑے نظر آجاتے تھے۔ کاشتکاروں کیساتھ ساتھ اس کا کاروبار کرنے والے مالی لحاظ سے کافی خوشحال تھے لیکن وقت گزرنے کیساتھ ساتھ اس کی پیداوار گھٹتی گئی اور آج حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ کاشتکاروں کے علاوہ اس کا کاروبار کرنیوالے افراد بھی پریشانی کے شکار ہیں۔ کئی برس قبل حکومت نے زعفران کی پیداوار بڑھانے اور اس کے کاروبار کو وسعت دینے کیلئے زعفران کے قومی مشن کا اعلان کردیا، لیکن کاشتکار آج یہ شکایت کررہے ہیں کہ اس مشن کی شروعات کے موقعہ پر جو کچھ وعدہ کیا گیا تھا اُن پر عمل نہ کرنے سے یہ مشن بھی بقول ان کے مبینہ طور پر آگے نہ بڑھ سکا۔قومی مشن کو زعفران کے کھیتوں کیلئے آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کیلئے اقدامات کرنے چاہیے تھے اور اس مشن کے تحت بورویل اور آبپاشی کی دیگر سہولیات کو جلد از جلد مکمل طور پر فعال بنانا چاہیے تھا تاکہ اس فصل سے جڑے کاشتکار بھر پور فائدہ اُٹھاسکیں لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ آج اس وراثتی فصل کے ناپید ہونے کے خدشات پیداہونے لگے ہیں کیوں کہ زعفران کیلئے بھر پور آبپاشی اور دیگر سہولیات کی عدم دستیابی سے یہ فصل زندگی کے آخری دن گن رہا ہے۔ آبپاشی زعفران کی کاشت میں ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے جب تک بورویل اور چھڑکائو کا نظام فعال نہیں ہوتا زعفران کی فصل ناپید ہوتی رہے گی۔ اگرچہ موسمیاتی تبدیلیاں بھی زعفران کی پیداوار پر اثر انداز ہورہی ہیں لیکن حکومت سے جتنا ہوسکتا ہے اسے اتنا کرنا چاہیے۔کاشتکار اس بات کا مطالبہ کررہے ہیں کہ بورویل اور چھڑکائو کا نظام زمینی سطح پر نافذ کیا جائے تاکہ زعفران کی پیداوار میں اضافہ ہوسکے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہر طرح کی فصل پر گلوبل وارمنگ سے برے اثرات مرتب ہونے لگے ہیں جن میں زعفران بھی ایک ہے لیکن بھر پور آبپاشی کی سہولیات سے کسان اس پریشان کن صورتحال کے سبب اس پر قابو پارہے ہیں لیکن زعفران کے کاشتکار انتہائی پریشانیوں کے شکار ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ اس وراثتی فصل پر خصوصی توجہ دیکر اس شعبہ سے وابستہ خاندانوں اور افراد کے روزگار کا خیال رکھتے ہوئے اُن تمام جائز اقدامات کو بروئے کارلایا جائے جن سے زعفران کی کاشت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔


