نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ کہلاتا ہے۔ یہی قوم کا مستقبل ہے جن کے ہاتھوں کل قوم کی باگ ڈور ہوگی۔نئی نسل کے تئیں ذرا سی کوتاہی بھی قوم کے مستقبل کیساتھ کھلواڑکہلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی اور یورپی ممالک میں نوجوانوں کو قومی دائرے میں شامل کرنے کیلئے کافی اہمیت دی جاتی ہے ۔ وہاں کی حکومتیں جو بھی نظریہ رکھتی ہوں، بہرحال نوجوانوں کو آگے لانے میں اور اُن کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی اور مغربی ممالک میں حکومتیں تبدیل ہونے کے بعد بھی زمینی سطح پر تعمیر، ترقی اور فلاحی منصوبوں کی عمل آوری میں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ وہاں کی حکومتیں اپنے سیاسی منشور میں ہمیشہ نوجوانوں کو فوقیت دیتے ہیں۔ اُن کی تعلیم اور فلاح و بہبود پر مبنی اقدامات کو اوّلیت دی جاتی ہے۔نوجوان جو کہ قوم کا مستقبل ہے کیساتھ اگر کسی بھی قسم کی ناانصافی اور حق تلفی ہو، تو اس میں صرف نئی نسل کا ہی نقصان نہیں بلکہ یہ سماج کا مجموعی نقصان کہلاتا ہے کیوں کہ سماج نئی نسل کی قائدانہ صلاحیت سے مستقبل میں محروم ہوکر رہ جاتی ہے جو کہ ایک ٹھیک بات نہیں ہے۔جموں کشمیر کی بات کی جائے تو یہاں نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد بے روزگار کی مار جھیل رہے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سرکاری سطح پر روزگار کے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے یہاں لاکھوں کی تعداد میں نوجوان بے روزگاری کے شکار ہیں۔ معیاری کالجوں اور یونیورسٹیوں سے یہ نوجوان اعلیٰ ڈگریاں حاصل کرکے اب گھروں میں بیٹھنے پر مجبور ہیں۔سرکاری اورنجی سیکٹر میں روزگار نہ ہونے کی بنیاد پر اب ہزاروں کی تعداد میں تعلیم یافتہ نوجوان مایوسی کے شکار ہوچکے ہیں۔بڑی تعداد اب ذہنی امراض کے شکار ہوچکے ہیں جس کا ثبوت یہاں کے طبی مراکز او رنجی کلنک ہیں۔ حالیہ دنوں کے دوران اسمبلی اجلاس میں پی ڈی پی لیڈر اور ممبر اسمبلی ترال محمد رفیق نائیک کی جانب سے اس معاملہ کی جانب ایوان کی توجہ مبذول کرائی گئی۔ ممبر موصوف نے ایوان میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ وادی کشمیر میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعدادبے روزگار ہیں، اور اسی بے روزگاری کی وجہ وہ شادی بیاہ کے بندھن میں بندھ جانے سے قاصر ہیں۔ ممبر موصوف نے یقینی طور پرایک ایسی حقیقت کی جانب ایوان کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی کہ جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔یہ بات بالکل عیاں ہے کہ ہماری وادی میں جب بھی کوئی شخص اپنی بہن یا بیٹی کا رشتہ تلاش کرتا ہے تو وہ سب سے پہلے سرکاری نوکری کرنے والے شخص کی تلاش میں رہتا ہے ۔ نجی سیکٹر میں کام کررہے نوجوان اُن کی آخری چوائس ہوتی ہے کیوں کہ وادی میں نجی سیکٹر نہ ہونے کے برابر ہے ۔ یہاں پڑھے لکھے نوجوانوں کو چند ہزار روپے کی نوکری پر رکھا جاتا ہے جو کہ ایک ازدواجی زندگی کیلئے کافی نہیں ہے۔ لہٰذا سماج میں سرکاری نوکری کرنیوالے لڑکے کی تلاش کرنا ایک خطر ناک رجحان ہے جس پر سنجیدہ فکر لوگوں بالخصوص یہاں کے سیاست دانوں کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ سرکاری محکموں میں خالی پڑی اسامیوں کو بلاتاخیر مشتہر کرکے مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے۔ موجودہ این سی کی قیادت والی سرکار کو 2024میں عوام کی جانب سے بھاری منڈیٹ حاصل ہوا کیوں کہ عوام نے انہیں دیرینہ مطالبات کو پورا کرنے کیلئے اپنا ووٹ دیا ۔ سرکار کو چاہیے کہ وہ بے روزگار نوجوانوں کے مسائل کو سنجیدگی کیساتھ ایڈریس کرکے اُن کی فلاح و بہبود کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھائے۔


