گزشتہ چند مہینوں سے جموں کشمیر پولیس کی جانب سے وادی بھر کے سم کارڈ ڈیلروں سے سم کارڈوں سے متعلق تفاصیل کے حوالہ سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ وقتاً فوقتاً پولیس ٹیموں کی جانب سے وادی کے مختلف اضلاع میں سم کارڈ بیچنے والوں دوکاندوں کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہ اقدام وادی میں سیکورٹی صورتحال کو مضبوط بنانے اور امن و سماج دشمن عناصر کی جانب سے سم کارڈوں کا ناجائز استعمال کی روکتھام سے متعلق اُٹھایا جاتا ہے۔چند برس قبل تک یہاں معمول کے مطابق موبائل سم کارڈ بیچنے والے ایک ہی افراد کے نام پر کئی کئی سم کارڈ جاری کرتے تھے حالانکہ یہ بھی بعض اوقات دیکھنے میں آیا کہ جس شخص کے نام پر متعدد سم کارڈ جاری کئے جاتے تھے اُسے اُس بارے میں کوئی بھی علمیت نہیں ہوتی تھی۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ سیکورٹی کیلئے خطرہ عناصر بھی ایسی صورتحال کا بھر پور فائدہ اُٹھاتے تھے اور یوں کئی غیر قانونی سرگرمی انجام دینے کے بعد عام شہری ہی قانونی اداروں کی زد میں آجاتا تھا۔موبائل سم کارڈ حاصل کرنے کیلئے ایک شہری اپنے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ سائز کے چند فوٹو متعلقہ ڈیلر کے پاس جمع کراتا تھا اور اس کے عوض سم کارڈ حاصل کرتا تھا، لیکن مفاد خصوصی رکھنے والے چند ایسے دوکاندار انہیں کاغذات اور فوٹو کی دوبارہ کاپیاں نکال کر مزید سم اس شخص کے نام پر جاری کرتے تھے جو کہ اصل شخص کو اس کا کچھ بھی علم نہیں ہوتا تھا۔ گزشتہ چند برسوں سے اس ساری صورتحال پر سیکورٹی ایجنسیوں کی سخت نگرانی جاری ہے اور آئے روز وادی کے مختلف علاقوں میں سم کارڈ ڈیلروں کے پاس موجودہ تفاصیل کا جائزہ لیا جاتا ہے جو کہ ایک خوش آئندہ قدم ہے۔ بہر حال ایک ذمہ داری شہری کی حیثیت سے ہر انسان کو سماج کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کا ادراک حاصل ہونا چاہیے۔ اُسے ایسی تمام سرگرمیوں سے گریز کرنا چاہیے جس کی وجہ سے نہ صرف قوم کو بلکہ اس کی ذات کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ پولیس کی جانب سے سم کارڈ ڈیلروں کی پوچھ گچھ سے یہاں کے سیکورٹی نظام میں مزید مضبوطی ہونے کا قوی امکان ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران جموں کشمیر میں امن کے قیام کو یقینی بنانے کیلئے انتظامی اور سیکورٹی سطح پر بے شمار اقدامات اُٹھائے گئے ہیں۔ امن کی قیام ہر شہری کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ امن کے بغیر نہ تعمیر ممکن ہے اور نہ ترقی۔ سم کارڈ بیچنے والے دوکاندارحضرات کو چاہیے کہ وہ اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے سم کارڈ اجراء سے متعلق تفاصیل کا پورا ریکارڈ اپنے پاس رکھیں اور جب بھی سیکورٹی ایجنسیاں اس بارے میں ان سے تفاصیل طلب کریں گی تو بلا جھجھک پورا ریکارڈ اُن کے سامنے رکھا جائے۔ ملک و قوم کی ترقی تب تک ممکن نہیں ہے جب تک نہ سماج کا ہر شہری اس میں اپنا رول ادا کرے۔


