دنیا بھر میں موسمی صورتحال بہت حد تک تبدیل ہوچکی ہے۔ 26دسمبر 2004کو انڈونیشیا میں ایک خوفناک زلزلے کے بعد جو سمندری طوفان برپا ہوا جسے سونامی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے نے نہ صرف انڈونیشیا کے ساحلی اور اندرونی علاقوں میں تباہی مچادہی بلکہ اس کے بعد آنیوالے برسوں میں دنیا بھرمیں موسمیاتی صورتحال کافی حد تک تبدیل ہوتی دکھائی دی گئی۔ اس حادثہ کو لگ بھگ 22سال کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن دنیا بھر میں اس زلزلے اور طوفان کے بعد تبدیلی واقع ہوگئی اُس کا خمیازہ آج بھی دنیا بھگت رہی ہے۔موسمی تبدیلی ایک معمول بن چکا ہے۔ سردی ہو یا گرمی، سال بھر جو بھی موسم وارد ہوتے ہیں وہ غیر یقینیت کیساتھ وارد ہوجاتے ہیں۔ جموں کشمیر کی بات کی جائے تو یہاں بھی موسمی تبدیلی کا بہت اثر واقع ہوچکا ہے۔ ماضی کے برسوں میں یہ معمول کی بات تھی کی اکتوبر سے لیکر مارچ یا اپریل تک سردیاں رہیں گی اور بعد ازاں کے مہینوں میں گرمیاں ہوں گی۔ اسی اعتبار سے جموں کشمیر کے لوگ بالخصوص یہاں کے باغ مالکان اور کسان اپنا شیڈول مرتب کرتے تھے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے! صورتحال بالکل برعکس ہے۔ اب موسم کی بے ترتیبی نے یہاں کے ہر طبقہ کو متاثر کیا ہے۔ باغ مالکان ہوں یا کسان، سب لوگ نقصانات سے دوچار ہیں۔ گزشتہ دنوں جنوبی کشمیر کے کولگام اور شوپیان اضلاع میں موسم اچانک تبدیل ہوا اور شدید ژالہ باری نے آناً فاناً ہزاروں باغ مالکان کے باغات کو تہس نہس کردیا۔ شدید ژالہ باری کی وجہ سے درختوں پر نمودار ہوچکی کونپلیں ختم ہوگئیں اور یوں باغ مالکان کے خواب چکنا چور ہوکر رہ گئے۔ یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں ہے۔ ایسے حادثات اب یہاں معمول کی بات ہے۔ گزشتہ سال کی بات کریں تو جموں اور خطہ پیر پنچال کے کئی اضلاع میں تیز رفتار بارشوں نے جو تباہی مچادی انسان اُس کو یاد کرنے میں آج بھی خوف کھاتا ہے۔ کشتواڑ کے چسوٹی گائوں میں شدید بارشوں نے پورے گائوں کو ہی زمین بوس کردیا۔ یہاں جنگلات کے بیچوں بیچ بڑے بڑے درخت اور مٹی کا بھاری ملبے نے پورے گائوں کو اپنے ساتھ لیا جس کی وجہ سے پچاس سے زائد افراد کی لاشیں کئی دنوں بعد ملبے سے باہر نکالی گئیں جبکہ درجنوں افراد کا آج تک کوئی اتہ پتہ چل نہ سکا۔جموں شہر میں شدید بارشوں نے کہرام مچادیا۔ کئی تاریخی پلوں کو تیز رفتار پانی نے اپنے ساتھ بہالیا ۔ ہزاروں مکانات کے اندر سیلابی پانی کئی دنوں تک رہا جس کی وجہ سے ان کو کافی سارا نقصان پہنچ گیا۔ یہاں وادی کشمیر میں بھی تیز رفتار بارشوں نے قہر مچادیا۔ الغرض دنیا بھر میں تبدیل ہوچکی موسمی صورتحال کا اثر جموں کشمیر پر بھی نمایاں طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ وہ ناگہانی آفات سے عوام کو کسی حد تک محفوظ رکھنے کیلئے پہلے سے موجود لائحہ عمل میں تبدیلی لائیں۔ نیز آئے روز تیز رفتار بارشوں اور شدید ژالہ باری سے باغ مالکان کو نقصانات ہورہے ہیں، ان کیلئے بھی کوئی خاص منصوبہ تشکیل دیا جائے تو ان کے نقصانات کی برپائی ہوجائے۔ صوبائی کمشنر کشمیر کا دفتر اس سلسلے میں گزشتہ کئی مہینوں سے متحرک دکھائی دے رہا ہے۔ اُنہوں نے اس سلسلے میں کئی میٹنگیں کیں ۔ اُمید ہے کہ ان میٹنگوں سے باغ مالکان، کسان اور عام لوگوں کو کسی حد تک راحت پہنچنے گی۔


