وادی کشمیر میں آوارہ کتوں کی تعداد میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ آئے روز اس معاملہ پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی وساطت سے عوام الناس حکام بالا تک اپنی فریاد پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن لوگوں کی فریاد شاید ہی حکام کے کانوں تک پہنچ پاتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران آوارہ کتوں کی تعداد لاکھوں تک جاپہنچی ہے اور آئے روز عام لوگ بالخصوص کمسن بچے ان کا نشانہ بن رہے ہیں۔ حال ہی میں شمالی کشمیر کے سوپور علاقہ میں ایک کمسن بچہ آوارہ کتوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ آوارہ کتوں نے اس کمسن پچے پر حملہ بولا جس کے نتیجہ میں بچہ موقعہ پر ہی اپنی جان کھوبیٹھا۔ اس واقعہ کو لیکر مقامی سطح پر عوام الناس میں حکام کے تئیں سخت غم و غصہ پایا جارہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے عام لوگوں کی نقل و حرکت اب مشکل بنتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ اس معاملہ کو بیسیوں مرتبہ متعلقہ حکام تک پہنچایا گیا تاہم آئے روز انسانی زندگیاں ضائع ہونے کے بعد بھی متعلقہ محکمہ اور اعلیٰ حکام ٹس سے مس نہیں ہور ہے ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ گزشتہ چھ سات برسوں سے عام لوگوں کو سبز باغ دکھاکر خاموش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکام کی جانب سے کئی مرتبہ یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ متعلقہ محکمہ آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد پر روک لگانے کیلئے سائنسی بنیادوں پر نس بندی کا عمل شروع کرے گا، لیکن کئی برس بیت جانے کے بعد بھی ڈاگ سٹرلائزیشن کا آغاز نہیں کیا گیا۔ مقامی لوگوں کا یہاں تک کہنا تھا کہ چند مواقع پر محض چند سطحی اقدامات اُٹھائے گئے جس کا مقصد محض اخباروں میں سرخیاں بٹورنا تھا۔ اسی طرح اگر شہر سرینگر کی بات کی جائے تو یہاں کی صورتحال حیران اور پریشان کرنیوالی ہے۔ شہر کے ہر علاقہ، گلی ، نکڑ، چوراہے،گلی، چوک اور دیگر مقامات پر آوارہ کتوں کے جھنڈ ڈھیرہ جمائے ہوئے ہیں۔ حالیہ مہینوں کی بات کی جائے تو شہر کے کئی علاقوں میں آوارہ کتوں کی یلغار میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران بیسیوں افراد آوارہ کتوں کی یلغار کا شکار ہوچکے ہیں۔ اگر چہ یہاں بھی لوگوں نے سرینگر میونسپل کارپوریشن کے اعلیٰ حکام تک بار بار اپیلیں کی اور انہیں اس معاملہ میں ٹھوس اقدامات کرنے کی گزارش کی، تاہم ہر بار کی طرح لوگوں کی مطالبات پر کوئی کان نہیں دھرا گیا۔ اس طرح حکام کی خاموشی کی وجہ سے عام لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں۔ ایس ایم سی کی جانب سے بار بار یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ سرینگر میں جدید بنیادوں پر آوارہ کتوں کی نس بندی کے عمل کا آغاز ہوگا، لیکن چند سطح اقدامات کے بعد منصوبے کو دوبارہ سرد خانے میں ڈالا گیا۔ انسانی زندگی کی سلامتی اور حفاظت انتظامیہ کی ترجیحات میں ہونی چاہیے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ نیند سے بیدار ہوکر اس سنجیدہ مسئلہ کے تئیں دلچسپی لے اور آوارہ کتوں کی نس بندی کا عمل جنگی بنیادوں پر شروع کرے تاکہ شہری اور دیہی علاقوں میں رہائش پذیر آبادی کی نقل و حرکت کو محفوظ بنایا جاسکے۔ اُمید ہے اعلیٰ حکام اس معاملہ کو ہنگامی بنیادوں پر سنجیدگی کیساتھ ایڈرس کریں گے۔


