نگران نیوز
جموں // وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تقریب کے موقعہ پر کہا، میں اشونی ویشنو اور ان کے ذریعے، جموں و کشمیر کے لوگوں کی طرف سے مرکزی حکومت کو جموں کو ریل کے ذریعے کشمیر سے جوڑنے کے لیے مبارکباد اور شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ اور کاروں جیسی اشیا کو لے جایا جا سکتا ہے، جس سے کاروبار اور تجارت کو بہت زیادہ فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا”اس ٹرین کی خاصیت یہ ہے کہ اس نے نہ صرف ہم جیسے لوگوں کو سفر کرنے کے قابل بنایا ہے بلکہ اس نے سیمنٹ جیسے سامان کی نقل و حمل میں بھی سہولت فراہم کی ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ماروتی کاروں کو سرینگر اور کشمیر سے پھلوں کو ریل کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے،” ۔عبداللہ نے وزیر ریلوے سے جموں و کشمیر میں ایک اندرون ملک بندرگاہ قائم کرنے کی بھی اپیل کی تاکہ مرکز کے زیر انتظام علاقے سے سامان کی برآمد کے لیے کسٹم کلیئرنس میں آسانی ہو۔انہوں نے کہا”میری ریلوے کے وزیر سے درخواست کرتا ہوں کہ جموں و کشمیر میں ایک اندرونی بندرگاہ قائم کی جائے۔انہوں نے کہا”یہاں ڈرائی پورٹ کی فوری ضرورت ہے تاکہ ہمیں اپنے سامان کے لیے دوسرے شہروں میں کسٹم کلیئرنس کی ضرورت نہ پڑے، جسے ہم یہاں سے ایکسپورٹ کرنا چاہتے ہیں، کسٹم کلیئرنس یہاں جموں و کشمیر میں ہونی چاہیے، اس سے ہماری تجارت اور کاروبار کو فائدہ ہوگا،” ۔عبداللہ نے کہا کہ مرکزی وزرا اور وہاں موجود ممبران پارلیمنٹ سے اس معاملے کو حکومت کے ساتھ اٹھانے کی اپیل کی۔سرینگر اور جموں کے درمیان ریلوے رابطے کی اہمیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ کئی سالوں سے اس کا انتظار کر رہے تھے، اب ہمیں جموں سے کٹرہ اور سڑک کے ذریعے دوسری طرف جانے کی ضرورت نہیں ہے۔”عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے کبھی توقع نہیں کی تھی کہ ریلوے لائن اتنی مقبول ہو جائے گی کہ انہیں ٹرین میں سیٹیں ریزرو کرنے کے لیے مدد حاصل کرنی پڑے گی۔انہوں نے کہا "شکر ہے، اب اس (ٹرین)کو آٹھ بوگیوں سے تبدیل کر کے 20 کر دیا گیا ہے اور جب کہ پہلے 500 مسافر سفر کرتے تھے، اب 1,400 لوگ سفر کر سکتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑی بات ہے”۔










