نگران نیوز
سری نگر//مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کو ٹیلی کام خدمات سے متعلق وسیع اختیارات تفویض کرتے ہوئے انہیں عوامی سلامتی، قومی ایمرجنسی اور داخلی تحفظ کی صورتحال میں مواصلاتی نظام پر براہِ راست کنٹرول حاصل کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ اس سلسلے میں باضابطہ گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا گیاہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق صدرِ جمہوریہ ہند نے آئین ہند کے آرٹیکل 239 کی شق (1) کے تحت جموں و کشمیر کے ایڈمنسٹریٹر، یعنی لیفٹیننٹ گورنر، کو ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 2023 کی دفعہ 20(2) کے تحت ریاستی حکومت کے اختیارات استعمال کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ اختیارات صدرِ جمہوریہ کے کنٹرول اور آئندہ احکامات تک نافذ العمل رہیں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر اب ایسے حالات میں، جہاں عوامی سلامتی، امن و امان یا قومی مفادات کو خطرات لاحق ہوں، ٹیلی فون، موبائل، انٹرنیٹ اور دیگر ڈیجیٹل مواصلاتی خدمات پر عارضی کنٹرول قائم کر سکیں گے۔ اس کے تحت مواصلاتی خدمات کی معطلی، محدود استعمال، سگنلوںکی ترسیل روکنے اور حساس مواصلاتی مواد کی نگرانی جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔حکام کے مطابق ایل جی کو انٹرسیپشن کی اجازت دینے، پیغامات کی نگرانی کرنے اور خفیہ پیغامات یا ڈیٹا کی ڈکرپشن کروانے کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ اختیارات صرف غیرمعمولی حالات، عوامی ہنگامی صورتحال یا قومی سلامتی سے متعلق معاملات میں استعمال کیے جائیں گے۔ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 2023 کی دفعہ 20(2) حکومت کو یہ اختیار فراہم کرتاہے کہ وہ عوامی ایمرجنسی، داخلی بدامنی یا سلامتی کے خطرات کے پیش نظر مواصلاتی نظام پر عارضی کنٹرول سنبھال سکے۔










