جموں کشمیر میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت میں سو روزہ نشہ مکت ابھیان زور و شور کیساتھ جاری ہے۔ رواں برس کے اپریل کی گیارہ تاریخ سے جاری سو روزہ مہم میں ابھی تک جموں کشمیر کے مختلف اضلاع میں لیفٹیننٹ گورنر نے پیدل یاترا کرتے ہوئے ڈرگ مافیا کو سخت پیغام دیا۔ جموں، پیر پنچال، چناب اور وادی کے کئی اضلاع میں نکالی گئی پیدل یاترائوں میں عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کرکے ڈرگ مافیا کو سماج کی جانب سے کھلا پیغام دیا۔ لوگوں کی ان پیدل یاترائوں میں بلالحاظ مکتب فکر شرکت کرکے جموں کشمیر کو نشہ مکت بنانے کا عہد کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے جاری مہمات میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈرگ مافیا کو سخت انتباہ دیتے ہوئے لوگوں بالخصوص نئی نسل کی زندگیوں سے کھیلنے سے باز رہنے کی تاکید کی۔خیال رہے جموں کشمیر میں لگ بھگ ایک دہائی کے عرصے سے ڈرگ مافیا کی جانب سے نوجوان نسل کو تباہ کرنے کی کارروائیوں میں کافی تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جموں کشمیر میں فی الوقت ایک تخمینے کے مطابق دس لاکھ سے زائد افراد نشہ آور اشیاء کا استعمال کرتے ہیں۔ اس تعداد کا ایک خاص اور بڑا حصہ ہیروئین کا استعمال کرتا ہے جو کہ ماہرین صحت کے مطابق انتہائی خطرناک مادہ ہے۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران جموں کشمیر بھر میں نئی نسل کو اس لت میں دھکیلنے کیلئے منصوبہ بند سازشیں رچی گئیں ۔آئے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر ایسی ویڈیوز پوسٹ کی جاتی ہیں جن میں نوجوان نسل ان خطرناک لت کا استعمال کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ پولیس اور سول انتظامیہ نوجوانوں کو اس وبا سے محفوظ رکھنے اوراس کے پیچھے عناصر کو بے نقاب کرنے کیلئے دن رات کام کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود مفاد خصوصی رکھنے والے عناصر جموں کشمیر کے نوجوانوں کا مستقبل اُجاڑنے کے درپے ہیں۔ آئے روز شہر اور دیہات میں نوجوان لڑکے نشہ کی مختلف اقسام کا استعمال کرکے سڑکوں پر بے ہوشی کی حالت میں پائے جاتے ہیں، جو کہ سماج کے اجتماعی کردار پر ایک سوالیہ نشان بھی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کئی مرتبہ نوجوانوں کی زندگیوں کیساتھ کھیلنے والوں کو خبردار کیا اور انہیں ایسی حرکات سے باز آنے پر زور دیا۔ نشہ مکت ابھیان کے تحت فی الوقت جموں کشمیر میں پولیس اور سول انتظامیہ کافی متحرک دکھائی دے رہی ہیں۔ پولیس آئے روز منشیات فروشوں کو ممنوعہ مادہ سمیت گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے دھکیل رہی ہے۔ ادھر پولیس کی تحویل میں منشیات کی کھیپ کو بھی پولیس سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کے سامنے تباہ کرتی ہے۔ نیز پولیس کی جانب سے جاری ابھیان میں شہر و گام کے علاقوں میں اُگائی گئی بھنگ کی کاشت کو بھی تہس نہس کیا جارہا ہے۔ جموں کشمیر کو نشہ مکت بنانے کیلئے محض انتظامیہ کا کام نہیں ہے، بلکہ اس کیلئے تمام لوگوں کو اپنا رول ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے بھی جاری ابھیان میں مختلف اضلاع میں تقاریر کے دوران عام لوگوں کو اس مہم میں رضاکارانہ طور پر شامل ہونے اور سماج کو نشہ مکت بنانے میں اپنا حصہ ادا کرنے پر زور دیا۔ اُمید ہے نشہ مکت ابھیان اپنا ہدف حاصل کرکے رہے گا، اور جموں کشمیر کا ہر شہری اس مہم میں اپنا حصہ ڈال کر سماج کو ایسے عناصر سے پاک کرنے میں اپنا رول ادا کرے گا جو نوجوان نسل کی زندگیوں کے درپے ہیں۔

