آج کے جدید دور میں ٹیکنالوجی کے بغیر زندگی کا تصور تقریباً تمام عمر کے لوگوں کیلئے ناممکن ہے۔ اگر کوئی بالغ انسان ٹیکنالوجی کا استعمال اس کے نقصاندہ پہلو کو جانتے ہوئے کرتا ہے تو اسے ہم اس کا انتخاب کہہ سکتے ہیں لیکن یہ بچوں کیلئے مختلف ہے۔ وہ عام طور پر ٹیکنالوجی کے ممکنہ بُرے پہلووئں سے واقف ہی نہیں ہیں۔ مائیں اس سے واقف ہیں لیکن آج وہ خود بھی پریشان ہیں ان کے ذہن میں ٹیکنالوجی کو لے کر مختلف سوالات ہیں۔ دیکھا جائے تو ہر چیز کے مثبت اور منفی، دونوں پہلو ہوتے ہیں۔ موبائل فون کا درست استعمال کرتے ہوئے کئی فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں جبکہ اس کا بے جا استعمال مضر اثرات مرتب کرتا ہے۔ آج انٹرنیٹ پر بہت سارے ایسے گیمز یا کھیل دستیاب ہیں جس سے نہ صرف بچوں کی تعلیمی بلکہ ذہنی نشوونما بھی ہورہی ہے مثلاً میموری گیمز، توجہ مرکوز رکھنے والے کھیل، ریاضی کے کھیل وغیرہ جس سے نہ صرف بچے محظوظ ہو رہے ہیں بلکہ تعلیمی میدان میں بھی ترقی کررہے ہیں۔امریکہ کی ایک یونیورسٹی نے مختلف نسلوں اور سماجی گروہوں کے ارکان کے درمیان سائنسی تحقیق کی اور تقریباً نو ہزار طلبہ پر کی گئی اس تحقیق کے مطابق موجودہ نسل کے آئی کیو اسکور پچھلی نسل سے زیادہ ہیں اور اس ترقی کو ماہرین براہِ راست ٹیکنالوجی سے جوڑتے ہیں۔ بچوں کی زندگی میں تکنیکی آلات کی تعداد میں اضافہ اور اس کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی محرکات بچوں کو زیادہ پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے قابل بناتی ہے۔سیکھنا اور سکھانا ایک بہت اہم چیز ہے۔ انٹرنیٹ کی بدولت ہر گھر میں لاتعداد کتابوں کی لائبریری موجود ہے جن سے بچے استفادہ کرسکتے ہیں۔ بچے ان موضوعات پر وسیع تحقیق کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر سیکھنے کا عمل منفرد انداز میں پیش کیا جاتا ہے جس سے آج کے بچے پچھلی صدی کے بچوں کے مقابلے میں زیادہ باشعور اور زیادہ سمجھدار ہورہے ہیں۔عمومی طور لوگ یہ سوچتے ہیں کہ کیا ٹیکنالوجی بچوں کیلئے مفید ہے یا مضر؟ تو وہ یہ جان لیں کہ ویجول ڈیزائن پروگرام، تکنیکی ڈرائنگ پروگرام، کوڈنگ پروگرام، لینگویج پروگرام، پرابلم سالوینگ پروگرام اور اسی طرح کے ڈیزائن ٹولز کی تخلیقی صلاحیتوں کو بہتر بناتے ہیں۔ یہ مفید یا مضر کا معاملہ نہیں ہے یہ سب اس بارے میں ہے کہ آپ کس طرح، کب اور کیا استعمال کرتے ہیں۔ تخلیقی بچے بدلتی ہوئی دنیا سے ہم آہنگ ہوتے ہیں، کامیاب ہوتے ہیں۔ اسی طرح وہ نئے اُبھرتے ہوئے مسائل کے نئے حل پیدا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور بچپن سے مسائل حل کرنے کی مہارتوں کو بڑھانے سے وہ مستقبل میں آسانی سے رکاوٹوں پر قابو پاسکتے ہیں۔تاہم ٹیکنالوجی کے منفی اثرات سے بھی لوگوں کو مانوس ہونا ضروری ہے۔ ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کی وجہ سے بچوں پر انٹرنیٹ کے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کا بے تحاشا استعمال اور انٹرنیٹ پر بغیر نگرانی کے رسائی بچوں کی سماجی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی اور جسمانی نشوونما پر بھی منفی اثرات کا سبب بن سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر زیادہ وقت گزارنے کے سبب بچہ حقیقی زندگی سے رشتہ منقطع کرتا جا رہا ہے۔ اور اس کا سماجی تعامل کم سے کم ہوتا جارہا ہے جو اس کے لئے بہت نقصاندہ ہے؛ پرتشدد کھیل اور گیمز کی بدولت بچوں کی جارحیت میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے؛ غیر محفوظ خوفناک چیزوں کو دیکھ کر بچے ڈرپوک ہوتے جا رہے ہیں؛ انٹرنیٹ کے غلط استعمال کی وجہ سے بچے صحت کے مسائل سے دوچار ہورہے ہیں مثلاً بصارت کے مسائل، گردن درد کے مسائل، موٹاپا، ہاتھ، بازو اور انگلیوں میں کھنچائو، تنائو، ذہنی تھکان وغیرہ؛ نیند کا معیار متاثر ہورہا ہے، ڈپریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے؛ جسمانی بیماریوں کا سبب بنتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی ذہنی تربیت کا اہتمام کریں اور انہیں ٹیکنالوجی کے مضر اثرات سے بچانے کی کوشش کریں۔

