دنیا بھر میں گلوبل وارمنگ واقع ہونے کے بعد جموں کشمیر بھی موسمی اعتبار سے کافی تبدیل ہوچکا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے یہاں کی موسمی صورتحال کافی تبدیل ہوگئی ہے۔نہ سردیاں اب سرما کے مہینوں تک محدود ہیں اور نہ ہی گرمیاں اب گرمائی مہینوں تک محدود ہیں۔ اب موسم کافی بدل چکا ہے۔ دسمبر کی شدید ٹھنڈ کے دوران بھی اب جولائی جیسی دھوپ نکل آتی ہے اور جولائی جوکہ شدید گرمی کا مہینہ ہوتا تھا، میں اب اچانک بارشیں، تیز آندھی،کلاوڈ برسٹ وغیرہ واقع ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں ماہرین موسمیات بھی حیران دکھائی دے رہے ہیں۔ ماہرین موسمیات کی ایک بڑی تعداد اس بات پرمتفق ہیں کہ گزشتہ دو تین دہائیوں کے دوران دنیا بھر میں قدرتی نظام کیساتھ انسانی مداخلت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب دنیا بھر کے بیشتر سرد علاقوں میں گلیشرز رفتہ رفتہ پگل رہے ہیں، آبگاہیں آلودہ ہوچکی ہیں، پہاڑی و بلندی پر واقع مقامات جو کل تک انسانی کی رسائی سے محفوظ تھے، اب آہستہ آہستہ متاثر ہونے لگے ہیں۔ جموں کشمیر کی بات کریں تو یہی صورتحال یہاں پر بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہاں کے گلیشرز ختم ہونے کی کگار پر ہیں۔ ندی ، نالوں، دریائوں اور دیگر آبگاہوں پر یا تو ناجائز قبضہ کرکے انہیں خشکی میں تبدیل کیا گیا ہے یا پھر انہیں آلودہ کیا گیا ہے۔ یہاں کی آبگاہوں پر نظر ڈالئے تو ایک بات عیاں ہوجاتی ہیں کہ آبگاہوں کے آس پاس رہائش پذیر آبادیاں ان میں گھروں سے نکلنے والا فضلہ اور کوڑا کرکٹ ان میں ڈال کر زندگی کے مستقبل کو مخدوش بنارہے ہیں۔ وادی کی ایسی بے شمار آبگاہیں ہوں گی جو کوڑا کرکٹ اور فضلہ وغیرہ ڈالنے کے بعد پوری طرح ختم ہوگئی ہیں، جبکہ متعدد ایسی ہیں جو ختم ہونے کی دہلیز پر ہیں۔نیز لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نقل و حرکت کرنیوالی گاڑیوں سے جو دھواں نکلتا ہے اُس سے بھی ماحولیات بہت حد تک متاثر ہوچکا ہے۔ علاوہ ازیں جموں کشمیر بھر میں موجود صنعتی کارخانوں سے نکلنے والے گیس کے اخراج سے بھی ماحولیات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اگر چہ حکومت کی جانب سے اس معاملہ میں بہت سارے قوانین تشکیل دئے جاچکے ہیں لیکن زمینی سطح پر ایسے قوانین کی کھلم کھلا دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں۔ عوامی حلقوں کی جانب سے بار بار حکومت سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ماحولیات کے تحفظ کیلئے بنائے گئے قوانین کو زمینی سطح پر من و عن نافذ کریں لیکن ایسا کچھ دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔محض قوانین کو تشکیل دینے یا سیمیناروں میں ماحولیات کے تحفظ پر تقاریر کرنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوسکتا ۔ اس کیلئے نہ صرف حکومتی سطح پر ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ عوام کی طرف سے بھی اس میں رول ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ عوامی سطح پر بیداری مہمات چلانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کے اندر یہ احساس جاگزین ہوجائے کہ یہاں کی آبگاہیں اور ندی نالے مستقبل کی علامت ہیں اور اگر یہ آج کی تاریخ میں متاثر ہوجائیں گے تو آنیوالا کل انسانی بقا کیلئے انتہائی مشکل ثابت ہوگا۔ نیز حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ کسی کے اثر و رسوخ میں آنے کے بجائے ماحولیات کے تحفظ سے متعلق تشکیل دئے گئے قوانین کو زمینی سطح پر نافذ کرنے میں کوئی کوتاہی نہ کریں۔ انسان کہیں پر بھی ہو، کسی بھی منصب پر براجمان ہو، امیر ہو یا غریب ہو، تعلیم یافتہ ہو یا بغیر تعلیم کے، ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔


