دنیا بھر میں موسمی تبدیلی واقع ہونے کے پیچھے جو محرکات ہیں اُن میں فضائی آلودگی ایک اہم وجہ بتائی جاتی ہے۔ فضائی کا آلودہ ہونا انسانیت کی بقا اور تسلسل کیلئے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق بیماریاں پھیلنے کی جو وجوہات ہیں ان میں سب سے بڑی وجہ اس وقت فضائی آلودگی ہے جس سے لوگ مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔ان ماہرین کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر جو بھی وائرس دنیا میں پھیل جاتا ہے اُس کے پیچھے فضائی آلودگی ایک اہم وجہ ہوتی ہے۔ایسی صورتحال میں انسان کا آس پاس کا ماحول بھی پراگندہ ہوجا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس قدر ہم اپنے آپ کو ،اپنے گھرو بار ،پاس پڑوس ،دفتر ،اسکول یا کام کرنے کی دیگر جگہوں کو صاف ستھرا نہیں رکھیں گے تب تک بیماریاں ہمارے پاس موجود رہیں گی۔اس وقت مختلف بیماریاں پھیلی ہوئی ہیںاور لوگ ان کے شکار ہورہے ہیں۔لوگ پریشان ہیں کریں تو کیا کریں کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہے۔جبکہ اصل بات یہ ہے کہ ہم کو بنیادی طور پر باڈی ہائیجین کے علاوہ اپنے ہمسائیوں ،رشتہ داروں اور دوست واحباب پر یہ بات واضح کردینی چاہئے کہ وہ خود کو اپنے گھر کو اور پاس پڑوس کو صاف رکھیں اور گندگی اور غلاظت نہ ڈالیں بلکہ ان ہی مقامات پر گندگی غلاظت ڈالی جاے جو میونسپلٹی نے اس کے لئے مقرر کی ہوئی ہیں۔لیکن یہ بات نوٹ کی گئی اب بھی لوگ بے ہنگم طریقے سے بیچ سڑکوں ،دیواروں کے پاس ،بجلی ٹرانسفارمروں کے نیچے کوڑا کرکٹ ڈال کر فضائی آلودگی کا باعث بن جاتے ہیں۔سرینگر کی بلدیہ نے شہر میں مختلف مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں خاکروب آکر شہر کا کچرااُٹھا کر میو نسپل گاڑیوں میں ڈال کر ڈمپنگ سائٹس میں پر لے جاکر وہاں اسے ٹھکانے لگاتے ہیں لیکن بعض لوگ اتنی سہولیات کے باوجود کچرے کو من پسند مقامات پر ڈالکر شہر کی خوبصورتی پر بد نما داغ لگاتے ہیں۔اگر چہ سرینگر میونسپل کارپوریشن کی جانب سے شہر سرینگر کے بیشتر علاقوں میں ایسی گاڑیاں تعینات کی گئی ہیں جو گھر کے دروازے پر آکر کوڑا کرکٹ جمع کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی ایسے کئی علاقے ہیں جہاں لوگ کھلی جگہوں پر کوڑا کرکٹ ڈال کر فضائی آلودگی میں اضافہ کا سبب بن جاتے ہیں۔ سماج کو صاف ستھرہ رکھنا اور فضائی آلودگی کو ختم کرنے میں اپنا رول ادا کرنے کیلئے ہر شہری اپنے طور پر ذمہ دار ہے۔ اس سے کسی کو انکار نہیں۔ لیکن اسے بدقسمتی ہی کہا جاسکتا ہے کہ یہاں کے دریائوں، ندی نالوں اور چشموں میں گزشتہ دو دہاہیوں کے دوران کافی ساری آلودگی جمع ہوچکی ہے۔ پلاسٹک، پالی تھین اور دیگر نوعیت کا کوڑا کرکٹ اب ان آبگاہوں کی زینت بن چکی ہے۔ جہاں بھی نظر دوڑائی جائے وہاں کی آبگاہیں آپ کو کوستی نظر آئیں گی۔ اگر سماج کے ہر شہری نے اپنی ذمہ داریوں کا بروقت ادراک نہ کیا تو آنیوالے کل انتہائی کٹھن ہوسکتا ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ ماحولیات کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور انہیں ادا کرنے میں کوئی کوتاہی نہ کریں۔


