دور جدید کو گلوبل گائوں کے نام سے جانا جاتا ہے کیوں کہ سات سمندر پار معمولی اور باریک خبر بھی چند لمحوں کے اندر دنیا کے کونے کونے تک پہنچ جاتی ہے۔ آج کی جدید دنیا میں معمولی نوعیت کی چیز بھی کسی آنکھ سے مخفی نہی رہ سکتی ہے کیوں کہ آج کی دنیا نے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں اس حد تک ترقی کی ہے کہ عام آدمی بھی جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیکر دنیا کی باریکیوں کو اچھی طرح جان سکتا ہے۔ الغرض دنیا کے چھوٹے سے گائوں سے لیکر بڑی سے مملکت تک دنیا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ سمٹ کر رہ گیا ہے۔ اس سمٹتے ہوئے دور میں لوگوں کا ایک دوسرے کیساتھ رابطہ بھی سوشل میڈیا کے ذریعہ نزدیک ہوتا چلا گیا ۔ ہزاروں میل دور ایک انسان دنیا کے دوسرے براعظم میں رہنے والے انسان کیساتھ بہ آسانی سے رابطہ قائم کرسکتا ہے۔ ایک دوسری کا تعارف حاصل کرنے کیساتھ ساتھ ایک دوسرے کی خیر و عافیت بھی معلوم کرسکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارموں نے دنیا بھر کے لوگوں نے ایک دوسرے کو بہت ہی نزدیک لاکھڑا کردیا ہے۔ آج سے دو دہائی قبل جو چیز اجنبی اور غیر معلوم ہوتی تھی، آج وہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ لوگوں کے قلب و ذہن پر چھائی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں کے ذریعہ سے لوگ ایک دوسرے کیساتھ آسانی کیساتھ رابطہ میں رہ سکتے ہیں۔ فیس بک، وٹس اَیپ، ٹویٹر، انسٹا گرام وغیرہ پلیٹ فارموں کے وسیلے سے اجنبی لوگ ایک دوسرے سے متعارف ہوگئے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ان پلیٹ فارموں کی وجہ سے اس طرح کی نزدیکی سے کسی کو اعتراض نہیں نہیں لیکن دنیا کے بعض خطوں جن میں وادی کشمیر بھی شامل ہیں، یہ روابط کے ذریعہ ایک ناسور کی شکل اختیار کرچکی ہیں۔ ہر ایرہ غیرہ نتھو خیرہ معصوموں کی پگڑی اُچھالنے کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لیکر سماج کا تانا بانا بکھیر نے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا ہے۔ سیاسیات سے لیکر سماجی مسئلہ تک، اجتماعیت سے لیکر نجی مسائل تک کو غیر سنجیدہ لوگوں نے سوشل میڈیا کو غلیظ مقام پر لاکھڑا کردیا ہے۔ ایسے عناصرکی بے ہودہ حرکات اور غیر سنجیدگی کی وجہ سے سماج کا اخلاقیاتی نظام پوری طرح سے تباہ ہوکر رہ گیا ہے۔ مہذب اقوام کی موجودہ تاریخ کو مطالعہ کیا جائے تو یہ بات نوٹ کرنے کے لائق ہے کہ وہاں کسی بھی خبر کو شائع کرنے سے قبل نہ صرف اُس کے معیار کو پرکھا جاتا ہے بلکہ شائع کرنے سے قبل سماجی اصولوں کو بھی ملحوظ نظر رکھا جاتا ہے کیوں کہ مہذب اقوام کا فرد نہ صرف سنجیدہ ہوا کرتا ہے بلکہ اپنے معاشرے میں اُبھررہی چیزوں کا بھی باریکی سے مشاہدہ کرتا رہتا ہے۔ لیکن جہاں تک وادی کشمیر کا تعلق ہے یہاں اصولوں کو نظر انداز کرکے غیر مصدقہ اور نجی زندگیوں سے متعلق خبروں کی تشہیر سوشل میڈیا کے ذریعہ کرائی جاتی ہے جس کا خمیازہ بعد میں سماج کے اجتماعی نظام کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ ایسے عناصر کی غیر سنجیدگی پر کلام کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہنا ضروری ہے کہ جو لوگ ایسی بے تکی اور غیر ضروری باتوں کو سماجی رابطہ گاہوں پر تشہیر کرتے ہیں، اُن کی ذہنی سطح اس قسم کی حرکات سے بخوبی معلوم ہوتی ہے۔ کشمیر کے اندر سوشل میڈیا کا چلن انتہائی زور پکڑ چکا ہے لیکن اس کے غلط استعمال نے یہاں کے معصوموں اور ذی شعور انسانوں کو سکتہ میں ڈال دیا ہے۔ ایسے عناصر کی لگام کسنے میں حکام بھی بے بس نظر آتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اپنے اندر کے شعور کو بیدار کرکے سنجیدگی پر مبنی زندگی اپنا اُوڑھنا بچھونا بنائے اور ایسی شرمسار کرنیوالی حرکات اور پوسٹس سے کلی طور پر اجتناب کرکے سماج کی اجتماعی تباہی کاپرزہ بننے سے ہرممکن احتیاط کرے۔ اسی میں سماج کی اجتماعی خیر چھپی ہوئی ہے۔

