جموں کشمیر میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک بڑی فوج بے روزگار بیٹھی ہے۔گزشتہ تین دو دہائیوں کے دوران جہاں کالجوں اور یونیورسٹیوں سے سالانہ ہزاروں کی تعداد میں طلبا اور طالبات بڑی بڑی ڈگریاں کرکے فارغ ہوگئے وہیں بیرون ریاست سے بھی ہزاروں کی تعداد میں مقامی نوجوان ڈگریاں مکمل کرکے بے روزگاروں کی صف میں کھڑے ہوگئے۔ یہاں سرکاری اداروں میں نوکریاں محدود ہونے کے نتیجہ میں تعلیم یافتہ نوجوانوں میں ذہنی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔ انہیں یہ اُمید تھی کہ تعلیم مکمل کرکے شاید سرکاری محکموں میں انہیں نوکری مل جائے گی لیکن اُن کے یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکے۔ اگرچہ اس دوران چند گنے چنے تعلیم یافتہ نوجوانوں نے صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے یا تو خود روزگار کمائو یونٹس قائم کئے یا پھر انہوں نے اپنے باپ دادائوں کے پیشوں کو ہی آگے بڑھاتے ہوئے باعزت روزگار کمانے کی شروعات کی۔ وادی میں ایسے ہزاروں اور لاکھوں نوجوان ہوں گے جنہوں نے مختلف موضوعات میں پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کی ہوں گی۔ اُن میں سے ایک بڑی تعداد اُن نوجوانوں کی ہوگی جن کے آبا اجداد باغبانی اور زرعی شعبہ کیساتھ تعلق رکھتے تھے۔ جنہوں نے اپنے وقت میں سرکاری نوکریوں پر تکیہ کرنے کے بجائے اپنے وراثتی پیشوں کو ہی اختیار کرکے باعزت روزگار حاصل کیا۔ یہاں ایسے ہزاروں اور لاکھوں کنبے ایسے ہوں گے جو زراعت اور باغبانی شعبے کے ذریعہ اپنی زندگی کو چلاسکتے ہیں۔ بہت سارے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے والدین مقامی دستکاری شعبے کیساتھ وابستہ تھے اور بہت سارے ایسے بھی ہوں گے جن کے باپ دادا تجارتی شعبہ کیساتھ وابستہ تھے۔ اگر آج کے تعلیم یافتہ نوجواں انہی وراثتی پیشوں کو پھر سے بحال کرکے ایک نئے عزم کیساتھ آگے بڑھنے کا تہیہ کریں گے تو وہ دن دور نہیں جب یہاں کے لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری کی اس وبا سے صیح سلامت باہر نکلیں گے۔ مگر اسے المیہ ہی کہا جائے گا کہ ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان جنہوں نے بی اے، ایم اے، ایم فل ، پی ایچ ڈی اور دیگر نوعیت کی ڈگریاں حاصل کی ہیں، وہ بس بارہ سے پندرہ ہزار روپیوں کیلئے کسی دوسرے کی نوکری کرنے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔ اس طرح ان تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایسے اداروں میں آہستہ آہستہ قدر کم ہوتی ہیں اور انہیں پھر عمر بھر چند ہزار روپیوں کیلئے غلام بنایا جاتا ہے۔ ہمارے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اس بات کی طرف توجہ دینی چاہیے کہ اُن کی کامیابی کس میں ہے اور اُن کیلئے گھاٹے کا سودا کیا ہے؟ آج کی تاریخ میں جموں کشمیرمیں دس لاکھ سے زائد تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار بیٹھے ہیں ۔ بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد یہ نوجوان اب ذہنی امراض کے شکار ہوچکے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان اپنا مستقبل طے کریں۔ اپنے پیروں پر کھڑے ہوجائیں۔ اپنے باب دادائوں کے پیشوں کو پھر سے جدید خطوط پر اُستوار کریں ۔ خود بھی روزگار کمائیں اور اُوروں کو بھی روزگار فراہم کرنے والے بن جائیں۔


