سرینگر شہر جن گوناگوں مسائل سے دوچار ہیں اُن میں سے فٹ پاتھوں پر ناجائز قبضہ ایک بڑے چیلنج کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ سرینگر کے لعل چوک، گھنٹہ گھر، ریڈیڈنسی روڑ، ڈلگیٹ، امیر کدل، گونی کھن، لل دید، حضوری باغ، مہاراجہ بازار، سرائے بالا، ہری سنگھ ہائی سٹریٹ ، بتہ مالو، سمیت درجنوں ایسے علاقے ہیں جہاں تجارتی اداروں کی جانب سے فٹ پاتھوں پر ناجائز قبضہ جمایا گیا ہے، جس سے شہری علاقوں میں عام راہ گیروں کو نقل و حمل میں سخت دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ یہاں روزانہ کی بنیاد پر فٹ پاتھوں پر دوکاندار اپنا تجارتی مال آویزان کرکے عام لوگوں کیلئے مشکلات کھڑی کررہے ہیں۔ حالیہ برسوں کے دوران سرینگر شہر کی جدید کاری کیلئے ہزاروں کروڑ کی رقم صرف کی گئی جس کا بنیادی مقصد بس یہی تھا کہ شہر کی خوبصورتی میں چار چاند لگ جائیں۔ لیکن جونہی سمارٹ سٹی کا یہ تجدیدی پروگرام پایہ تکمیل کو پہنچ گیا تو مختلف علاقوں سے آئے ہوئے ریڑے والوں اور دیگر تجارتی اداروں نے ان فٹ پاتھوں پر قبضہ جمالیا۔ ہری سنگھ ہائی سٹریٹ کی بات کریں تو یہاں انسان کی عقل حیران ہوجاتی ہے کہ انسان گاڑی کو لیکر یہاں سے کیسے سفر کرسکتا ہے۔ فٹ پاتھوں پر ناجائز قبضہ کی وجہ سے ہری سنگھ ہائی سٹریٹ کا علاقہ ایک تنگ گلی میں تبدیل ہوچکا ہے۔ فٹ پاتھ سے آگے والی سڑک پر بھی یہاں کے دوکاندار نے سڑکوں پر بیڈ لگاکر اپنا تجارتی مال بیچ راہ رکھ دیا ہے۔ یہاں فٹ پاتھ سے آگے سڑک پر جانے کیلئے کئی بیڈ والوں کو پار کرکے یوٹرن لینا پڑتا ہے کیوں کہ ناجائز قبضہ کی بنیاد پر اس علاقے کا حلیہ ہی بگاڑا گیا ہے۔ اسی طرح امیرا کدل اور کورٹ روڑ کا حال دیکھئے ۔ یہاں کی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے۔ اگرچہ انتظامیہ نے آج تک کئی مرتبہ فٹ پاتھوں کو ناجائز قبضے سے پاک کرنے کیلئے مہمات چلائیں لیکن انتظامیہ کے اہلکار جونہی علاقے سے واپس جاتے ہیں تو اسی اثنا میں یہاں فٹ پاتھوں پر یہ تجارتی ادارے پھر سے قبضہ جماتے ہیں۔ماضی قریب میں لعل چوک اور گردواح کے علاقوں میں ایس ڈی اے اور ایس ایم سی کی جانب سے کئی تجارتی مال تعمیر کئے گئے جہاں پر بہت سارے دوکانداروں کو دوکانیں الاٹ کی گئیں۔ جہانگر چوک میں واقع ایرا کی طرف سے تعمیر کئے گئے تجارتی کمپلکس کا حال ہمارے سامنے ہے جہاں آج کی تاریخ میں بھی متعدد دوکانیں الاٹ ہونے کے باوجود ہمہ وقت بند رہتی ہیں، کیونکہ جنہیں یہ دوکانیں الاٹ کی گئی ہیں وہ دوبارہ فٹ پاتھ پر ہی اپنا روزگار کماتے نظر آرہے ہیں۔ ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ کے مصداق یہاں کے بعض دوکانداروں کو دوکانیں الاٹ ہونے کے باوجود بھی سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر ناجائز قبضہ کا مسئلہ حل نہیں ہوا ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ایسی ٹھوس پالیسی اور قوانین تشکیل دے تاکہ فٹ پاتھوں پر ناجائز قبضہ جمانے والوں کیخلاف ٹھوس کارروائیاں کی جائے۔ سڑکیں اور فٹ پاتھ لوگوں کی آواجاہی کیلئے بنائی جاتی ہیں،نہ کہ تجارتی مقاصد کیلئے۔


