پی آئی بی
نئی دہلی //پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے ایندھن کی فراہمی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں ایک اپ ڈیٹ شیئر کیا، جس میں آبنائے ہرمز کو متاثر کرنے والی جاری پیش رفت کے درمیان پٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی بلاتعطل دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا خاکہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ سفارتی رسائی جاری ہے اور وزیر اعظم نے آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی بحری جہازوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ مشن قونصلر تعاون، خاندانوں کے ساتھ بات چیت اور ہندوستان واپسی میں سہولت فراہم کررہے ہیں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ایل پی جی کی سپلائی موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال سے متاثر ہوتی رہتی ہے۔ لیکن ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز پر کسی قسم کے ڈرائی آئوٹ کی اطلاع نہیں ہے۔پوری صنعت میں آن لائن ایل پی جی بکنگ تقریباً 98 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ڈیلیوری توثیقی کوڈ کی بنیاد پر ڈیلیوری تقریبا ً93 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔بکنگ کے خلاف گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی ترسیل معمول کے مطابق ہے۔کل تجارتی ایل پی جی کو بحران سے پہلے کی سطح کے تقریبا ً70% تک بڑھا دیا گیا ہے۔حکومت ہند نے مزدوروں کو تقسیم کرنے کے لیے دستیاب ہر ریاست میں 5 کلوگرام کے سلنڈروں کی یومیہ مقدار کو دوگنا کردیا ہے۔23 مارچ 2026 سے اب تک 14.6 لاکھ 5 کلوگرام فری ٹریڈ ایل پی جی سلنڈر فروخت کیے جا چکے ہیں۔ اب تک کمرشل ایل پی جی کی کل (70.64 لاکھ سے زیادہ 19 کلوگرام ایل پی جی سلنڈر فروخت ہو چکے ہے۔ D-PNG اور CNG-ٹرانسپورٹ کو 100% سپلائی کے ساتھ ترجیح دی گئی ہے۔کھاد پلانٹس کے لیے مجموعی طور پر گیس مختص کو ان کی چھ ماہ کی اوسط کھپت کے تقریبا ً95 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے۔مزید برآں، دیگر صنعتی اور تجارتی شعبوں کو گیس کی سپلائی بشمول سی جی ڈی نیٹ ورکس کے ذریعے سپلائی میں 80 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔ آٹو ایل پی جی کی اوسط فروخت فروری میں 177 میٹرک ٹن فی دن سے بڑھ کر 14 اپریل تک2 28 میٹرک ٹن ہوگئی ہے۔34,200 سے زیادہ PNG صارفین نے ایل پی جی کنکشن سرنڈر کیے۔کل 2,100 سے زیادہ چھاپے مارے گئے اور تقریباً 450 سلنڈر ضبط کئے گئے۔










