وادی کشمیر میں سفری دشواریوں کو آسانی میں بدل دینے کیلئے انتظامیہ نے چند برس قبل سرینگر میں سرینگر سمارٹ سٹی مشن کے تحت سمارٹ گاڑیوں کو متعارف کیا۔ پہلے پہل چند گاڑیوں کو متعارف کرکے اس بات کا یقین دلایا گیا کہ آنیوالے برسوں میں سفر کی دشواریوں کو ختم کرنے کیلئے نہ صرف سرینگر بلکہ مضافاتی علاقوں اور دیگر اضلاع میں بھی ایسی گاڑیوں کو لوگوں کیلئے وقف کیا جائے گا۔ شروعات کے پہلے کئی مہینوںمیں ان گاڑیوں میں سفر کرنا ایک خوشگوار تجربہ ثابت ہوا۔ پہلے لوگوں کو بس اسٹاپوں پر آدھ پونہ گھنٹہ انتظار کرنا پڑتا تھا اور تب جاکر کہیں سومو یا تویرا گاڑی میں بہ مشکل ہی سیٹ میسر آتی تھی، لیکن شروعات کے مہینوں میں جب یہ سمارٹ گاڑیاں سڑکوں پر رواں دواں تھی، تو شہر کی سڑکوں پر سفر کرنا انتہائی آسان ہوگیا تھا۔ لیکن جوں جوں ان گاڑیوں میں اضافہ کیا گیا اور سروس کو سرینگر کے علاوہ بقیہ اضلاع تک بھی وسیع کیاگیا تب سفری آسانیوں میں تنگی آنا شروع ہوگئیں۔ شہر سرینگر کی بات کریں تو یہاں جو سمارٹ گاڑیوں سڑکوں پر رواں دواں دکھائی دے رہی ہیں، وہ دہائی پرانیاں لگ رہی ہیں کیوں کہ گاڑیوں کی صاف صفائی اور رکھ رکھائو کا کوئی ٹھوس بندوبست نہیں ہے۔ لال رنگ کی ان سمارٹ گاڑیوں پر گرد و غبار کے انبارلگ گئے ہیں جس کی وجہ سے گاڑیوں کی رنگینی اور خوبصورتی بہت حد تک متاثر ہوگئی ہیں۔ نیز گاڑیوں کے اندرون کی بات کریں تو وہاں صورتحال بالکل مایوس کن نظر آرہی ہیں۔ جب سے موجودہ عوامی حکومت کی جانب سے خواتین کیلئے ان گاڑیوں میں سفر کو مفت قرار دیا گیا، تب سے ان گاڑیوں کا حلیہ ہی بگڑ گیا ہے۔ مفت سفر کی آڑ میں گاڑیوں کے اندر جم غفیر ہوتا ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں کے اندر سانس لینے کی بھی جگہ ہیں رہتی ہے۔ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض خواتین مفت سواری کی آڑ میں غیر ضروری طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ تک ان گاڑیوں میں سفر کرتی ہیں جس کی وجہ سے سڑکوں پر انتظار میں بیٹھے ضرورتمند مسافر وقت پر اپنی منزلوں پر نہیں پہنچ پاتے ہیں کیوں کہ گاڑیوں میں ان کیلئے کوئی جگہ دستیاب ہی نہیں ہوتی ہے۔ نئی دہلی کی سڑکوں پر ایسی ہی سمارٹ گاڑیاں دہائیاں قبل شروع کی گئی ہیں لیکن اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی اُن کا حلیہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے آج ہی گاڑی کو شوروم سے نکالا گیا ہو۔ ان گاڑیوں کے منتظمین کو چاہیے کہ وہ گاڑیوں کا نظام درست کریں،گاڑیوں کیلئے صاف صفائی کا اہتمام کریں اور گاڑیوں کے اندر جم غفیر سے اجتناب کریں۔ سمارٹ گاڑیوں میں کیمرے نصب ہوتے ہیں جو براہ راست کنٹرول روم کیساتھ جڑے ہوئے ہوتے ہیں لہٰذا انتظامیہ کو چاہیے کہ جس کسی سمارٹ گاڑی میں بھی مسافروں کا جم غفیر پایا جائے، اُس گاڑی کو چلانے والا ڈرائیور اور کنڈیکٹر کیخلاف کارروائی ہو۔ عوام کو آسان سفر تک رسائی دینا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، نہ کہ سفر کو تکلیف دہ بنانا ہے۔ یہ سمارٹ گاڑیاں قوم کا اجتماعی اثاثہ ہے، لہٰذا اُمید کی جاتی ہے کہ نہ صرف انتظامیہ گاڑیوں کی حفاظت کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا، بلکہ عوام الناس بھی ان گاڑیوں کو قومی اثاثہ جان کر استعمال میں لائیں۔قومی اثاثے کی قدر کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔


