یہ پیش رفت 13.15 کلومیٹر طویل زو جیلا ٹنل کی تعمیر میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جو مکمل ہونے کے بعد ایشیا کی سب سے طویل دو طرفہ سڑک سرنگ ہوگی۔
یہ منصوبہ کشمیر اور لداخ کے درمیان ہر موسم میں رابطے کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ خطے میں ٹرانسپورٹ، سیاحت اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے گا۔
منی مارگ (لداخ): ملک کے سب سے اہم بنیادی ڈھانچوں کے منصوبوں میں شمار ہونے والے "زوجیلا ٹنل” پروجیکٹ میں منگل کو ایک تاریخی پیش رفت اُس وقت حاصل ہوئی، جب دھماکے کے ذریعے سرنگ کے دونوں سروں کے درمیان باقی ماندہ 2.5 میٹر کا فاصلہ کامیابی سے ختم کر کے دونوں سروں کو ملا لیا گیا۔ اس اہم سنگ میل کے ساتھ ہی کشمیر وادی اور لداخ کے درمیان ہر موسم میں زمینے رابطے کا کئی دہائیوں پرانا خواب حقیقت کے مزید قریب پہنچ گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ سرنگ میں باقی رہ جانے والا 2.5 میٹر کا فاصلہ کامیابی سے ختم کر کے "بریک تھرو” حاصل کر لیا گیا ہے۔
مرکزی وزیر برائے روڈز، ٹرانسپورٹ اینڈ ہائی ویز – نتن گڈکری – نے ریموٹ بٹن دبا کر لداخ کے منی مارگ میں سرنگ کے مشرقی دہانے کے قریب بریک تھرو مقام پر دھماکہ کیا۔ اس موقع پر جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی موجود تھے۔
سرنگ ٹریفک کیلیے کب کھلے گی؟
نیشنل ہائی ویز اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (این ایچ آئی ڈی سی ایل) کے حکام کے مطابق یہ بریک تھرو طے شدہ وقت سے تقریباً چھ ماہ پہلے حاصل کیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ سرنگ کو فروری 2028 میں عوام کے لیے کھولے جانے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق بریک تھرو کے بعد سول تعمیراتی کام مکمل ہونے میں مزید سات سے آٹھ ماہ لگیں گے، جس کے بعد برقی اور دیگر تکنیکی تنصیبات کا مرحلہ شروع ہوگا۔
منصوبے کے اتھارٹی انجینئر یوسف اسحاق پور رحیم آبادی نے بتایا کہ اب تک منصوبے کا تقریباً 85 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ 13.153 کلومیٹر طویل، 9.5 میٹر چوڑی اور 7.57 میٹر بلند یہ سرنگ گھوڑے کی نعل نما ڈیزائن پر مشتمل سنگل ٹیوب ٹو وے روڈ سرنگ ہے، جو سطح سمندر سے تقریباً 11,578 فٹ کی بلندی پر تعمیر کی جا رہی ہے۔
سرینگر-لیہہ قومی شاہراہ پر واقع یہ جغرافیائی اور تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم سرنگ یوٹی لداخ کو سال بھر موسمی رکاوٹوں سے آزاد زمینی رابطہ فراہم کرے گی۔ اس کے ذریعے پہلے ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کا سفر صرف 15 منٹ میں طے کیا جا سکے گا۔
گاندربل ضلع کے بالتل سے لداخ کے ضلع دراس کے منی مارگ تک تعمیر کی جا رہی اس سرنگ کے ساتھ 18 کلومیٹر طویل رابطہ سڑک بھی شامل ہے۔ منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ (MEIL) نے ہمالیہ کے دشوار گزار اور حساس جغرافیائی حالات میں سرنگ کی کھدائی کے لیے نیو آسٹرین ٹنلنگ میتھڈ (NATM) استعمال کیا۔ رابطہ سڑکوں اور پلوں سمیت پورے منصوبے کی مجموعی لمبائی 31 کلومیٹر ہے، جو سونہ مرگ سے منی مارگ تک پھیلی ہوئی ہے۔
منصوبہ مکمل ہونے کے بعد زوجیلا درے کے ذریعے شہری اور فوجی نقل و حرکت میں نمایاں بہتری آئے گی۔ بھاری برف باری کے باعث یہ درہ ہر سال تقریباً تین ماہ تک ٹریفک کے لیے بند رہتا ہے۔
بریک تھرو کے بعد خطاب کرتے ہوئے نتن گڈکری نے کہا کہ سرنگ کے دونوں سروں کا آپس میں مل جانا بھارت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں ایک سنہرا دن ہے اور دنیا کی سب سے طویل بائی ڈائریکشنل (Bi-Directional) سنگل ٹیوب سرنگ کی تکمیل کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
انہوں نے کہا: "یہ منصوبہ لداخ کے لیے ایک اہم لائف لائن ثابت ہوگا اور میں لداخ اور جموں و کشمیر کے عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔” گڈکری کے مطابق جدید ترین انجینئرنگ ٹیکنالوجی سے مزین اس سرنگ میں دنیا کے بہترین حفاظتی معیار اپنائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہر موسم سرما کے دوران لداخ تقریباً چھ ماہ تک ملک کے باقی حصوں سے مکمل طور پر کٹ جاتا تھا، اسی مشکل کو ختم کرنے کی ضرورت نے اس منصوبے کو ناگزیر بنا دیا۔
گڈکری نے کہا:”وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو ترجیح دی گئی۔” انہوں نے بتایا کہ "اگرچہ اس منصوبے کے لیے چار مرتبہ ٹینڈر جاری کیے گئے، لیکن مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے لاگت کو ابتدائی 12 ہزار کروڑ روپے سے کم کرکے 7 ہزار کروڑ روپے تک لایا گیا، جس سے سرکاری خزانے کے تقریباً 5 ہزار کروڑ روپے بچائے گئے۔”
انہوں نے اس منصوبے کی تکمیل میں تعاون پر جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی حکومت، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، مقامی عوام اور میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "کمپنی نے دن رات محنت کر کے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔”









