کسی بھی ترقی یافتہ قوم یا سماج کی طرف نظر دوڈائیے تو اُن کی ترقی کے محرکات میں سے ایک اہم اور بنیادی محرک علم کیساتھ وابستگی رہی ہے۔ علم کیساتھ وابستگی کا مطالب محض یہ نہیں کہ وہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے بڑی بڑی ڈگریاں لیکر فارغ ہوجاتے ہیں بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ عمر کے کسی بھی حصے میں انسان کیوں نہ ہو، وہ کتابوں کیساتھ اپنا تعلق کمزور نہیں ہونے دیتا ہے۔ مغربی ممالک کی بات کریں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہاں آج بھی بڑے بزرگ علم کی تلاش میں کتابوں کیساتھ اپنا تعلق مضبوط بنائے ہوئے ہیں۔ نہ صرف نوجوان نسل بلکہ عمر رسیدہ افراد بھی کتابوں کو اپنا حرز جان بنائے ہوئے ہیں۔ تب ہی تو یہ ممکن ہوا کہ ایسے ممالک ترقی کی بلندیوں کو چھوتے نظر آرہے ہیں۔جب ہم اپنے معاشرہ پر نظر ڈالتے ہیں تو یہاں کتابوں کیساتھ تعلق ایک نئی بات معلوم ہوتی ہے۔ زمانہ قریب میں اگر چہ یہاں کی نوجوان نسل کسی حد تک کتابوں کیساتھ لو لگائے تھی، لیکن انٹرنیٹ کے وارد ہوتے ہی یہاں اب کتابوں کیساتھ تعلق کو وقت کا ضیاع سمجھا جانے لگا ہے۔ انسان صبح آنکھ کھولتے ہی موبائل ہاتھ میں لیکر انٹرنیٹ سکرالنگ کرتا ہے اور یہی کرتے کرتے شام ہوجاتی ہے۔ سوشل میڈیا سائٹس جن میں فیس بک، وٹس ایپ، ٹیلی گرام، ایکس وغیرہ شامل ہیں میں آج کی نوجوان نسل اپنا پورا وقت ضائع کرتی ہے۔ تعلیمی اداروں ، ہسپتالوں، مذہبی مقامات، عوامی مقامات، پبلک پارکوں ، گاڑیوں اور دیگر مقامات پر آج کی نوجوان پود سوشل میڈیا کیساتھ ہی چمٹ کر رہ جاتی ہے۔ روزانہ کی سکرالنگ کا جائزہ لیا جائے تو اس کا بیشتر حصہ غیر ضروری ثابت ہوگا لیکن ماڈرنزم اور انٹرنیٹ کے دور میں آج کا نوجوان اپنا وقت ضائع کرنے کے بعد بھی یہ محسوس نہیں کرپاتا کہ اُس نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ یوروپ اور مغربی ممالک کی آبادی کا حال یہاں کے لوگوں سے بالکل مختلف ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ کشمیر کی سیر پر آنیوالے غیر ممالک کے سیاح کی سرگرمیوں سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ وہ کس قدر سیر و تفریح کے دوران بھی کتابوں اور علم کیساتھ تعلق بنائے رکھتے ہیں۔ بہت ساری ایسی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں جب یہاں غیر ملکی سیاحوں کو دیکھا گیا تو اُن کے ہاتھ میں کوئی نہ کوئی کتاب موجود ہوتی تھی جسے وہ سیر و تفریح کے دوران بھی مطالعہ میں رکھتے تھے۔ وہ اپنے ٹائم کو اچھے طریقے پر منیج کرپاتے ہیں۔ ان کی روز مرہ کی زندگی میں جہاں نجی، سماجی، خاندانی ، کاروباری وغیرہ معاملات کیلئے وقت نکالنا پڑتا ہے، اُسی طرح وہ علم کی پیاس بجھانے کیلئے کتابوں کا مطالعہ بھی مستقل طور پر کرتے رہتے ہیں۔ یہاں موبائل انٹرنیٹ نے کتابوں کیساتھ تعلق کو انتہائی کمزور کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی تاریخ میں وادی کشمیر میں موجود بک شاپوں پر خریداروں کی بہت کم تعداد دیکھنے کو ملتی ہے۔ انسان جتنا خود کو علم کیساتھ وابستہ رکھے گا اُتنا ہی وہ ترقی یافتہ ہوپائے گا۔ اُس کے اندر اخلاق، تہذیب، تمدن اور معاملات کیساتھ بہتر طریقے پر ڈیل کرنا آئے گا۔ اگر کتابوں سے دوری اختیار کی گئی تو انسان زندگی میں درپیش معاملات کو ڈیل کرنے میں ناقص قرار پائے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کتابوں کی طرف واپس رجوع کیا جائے۔ انٹرنیٹ کے استعمال یا سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی دکھانے سے کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن انسانی زندگی میں کتابوں کی اہمیت بھی اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے۔


