نگران نیوز
سری نگر//جموں و کشمیر میں دیہی روزگار کے شعبے میں ایک بڑی تبدیلی کے تحت یکم جولائی 2026 سے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کی جگہ وکست بھارت-گارنٹی فار روزگار اینڈ آجیویکا مشن (گرامین) نافذ کر دیا گیا ہے۔ نئی اسکیم کے تحت دیہی خاندانوں کو سالانہ 125 دن مزدوری پر مبنی روزگار کی گارنٹی دی جائے گی، جو منریگا کے تحت فراہم کیے جانے والے 100 دن کے مقابلے میں 25 دن زیادہ ہے۔ دیہی ترقی محکمہ نے بتایا کہ نئی اسکیم کا مقصد صرف روزگار فراہم کرنا نہیں بلکہ دیہی علاقوں میں پائیدار بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، زرعی سرگرمیوں کے مطابق عوامی کاموں کی منصوبہ بندی اور مزدوروں کو بروقت اجرت کی ادائیگی کو یقینی بنانا بھی ہے۔ ان کے مطابق ہفتہ وار یا زیادہ سے زیادہ 15 دن کے اندر اجرت کی ادائیگی اور تاخیر کی صورت میں معاوضے کی فراہمی جیسی شقیں دیہی مزدوروں کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں، کیونکہ منریگا کے دوران اجرت کی ادائیگی میں تاخیر ایک بڑا مسئلہ رہی ہے۔حکام کے مطابق جموں و کشمیر جیسے خطوں میں، جہاں موسم کی شدت اور زرعی سرگرمیوں کی محدود مدت کے باعث دیہی آبادی کو متبادل روزگار کی ضرورت رہتی ہے، 125 دن کی روزگار گارنٹی سے ہزاروں خاندانوں کو اضافی آمدنی حاصل ہونے کی توقع ہے، خاص طور پر ان دور افتادہ اضلاع میں جہاں نجی شعبے میں ملازمت کے مواقع محدود ہیں۔نئی اسکیم کے تحت ایک اہم تبدیلی یہ بھی کی گئی ہے کہ بوائی اور فصل کی کٹائی کے اہم ادوار کے دوران 60 دن تک عوامی ترقیاتی کام معطل رہیں گے تاکہ زرعی شعبے میں مزدوروں کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سیب، زعفران، دھان اور دیگر فصلوں کی کاشت کے دوران مزدوروں کی کمی کو دور کرنے میں مدد ملے گی، جو گزشتہ برسوں میں ایک مستقل مسئلہ رہی ہے۔اسکیم میں آبپاشی، پانی کے تحفظ، سیلاب سے بچاؤ، دیہی سڑکوں اور کمیونٹی انفراسٹرکچر جیسے پائیدار اثاثوں کی تعمیر پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے، جنہیں جموں و کشمیر کے پہاڑی اور قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں کی طویل مدتی ترقی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 5 برسوں کے دوران منریگا نے جموں و کشمیر کی دیہی معیشت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مالی سال 2021-22 میں اس اسکیم پر 950.14 کروڑ روپے، 2022-23 میں 1,051 کروڑ روپے، 2023-24 میں 921.6 کروڑ روپے، 2024-25 میں 1,151.2 کروڑ روپے اور 2025-26 میں 22 مارچ تک 1,447.22 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ صرف 2025-26 کے دوران تقریباً 422 لاکھ پرسن ڈیز روزگار فراہم کیا گیا، جبکہ مجموعی اخراجات کا 87 فیصد سے زائد حصہ مزدوری کی ادائیگی پر صرف ہوا۔۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 3 مالی برسوں میں مزدوروں کی بقایا اجرت 218 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی، جبکہ مٹیریل واجبات 250 کروڑ روپے سے زیادہ ہو گئے تھے۔










