نگران نیوز
سری نگر//جموں و کشمیر حکومت نے ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ارکان اپنی سالانہ3 کروڑ روپے کے حلقہ ترقیاتی فنڈ (CDF) میں سے20 لاکھ روپے، کینسر سمیت دیگر جان لیوا امراض میں مبتلا ایسے غریب مریضوں کی مدد کے لیے خرچ کر سکیں گے جو مالی مشکلات سے جوجھ رہے ہوں۔ حکومت کے اس نئے اقدام سے ایسے مریضوں کو کچھ راحت ملنے کی امید ہے جو علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر کراؤڈ فنڈنگ کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ہر ایک ممبراسمبلی اپنے 3کروڑ روپے کے حلقہ ترقیاتی فنڈ میں سے زیادہ سے زیادہ20 لاکھ روپے جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ء غریب مریضوں کی طبی امداد کے لئے خرچ یا استعمال کر سکتا ہے۔حکم نامے کے مطابق، کینسر کے علاج کے لیے ایک مریض کو زیادہ سے زیادہ 2.75 لاکھ روپے، اعضا کی پیوندکاری (آرگن ٹرانسپلانٹ) کے لیے 5 لاکھ روپے، جبکہ ڈائلیسس کی ضرورت والے دائمی گردوں کے مرض اور حکومت کی جانب سے نوٹیفائی کی گئی دیگر بیماریوں کے لیے ایک لاکھ روپے تک امداد دی جا سکے گی۔تاہم یہ مالی امداد صرف خط افلاس سے نیچے (بی پی ایل) زندگی گزارنے والے اور معاشی طور پر کمزور طبقے کے مریضوں کو ملے گی۔ اس کے لیے شرط ہوگی کہ متعلقہ مریض پہلے ہی پی ایم جے اے وائی صحت(PM-JAY SEHAT)، میڈیکل ایڈ ٹرسٹ (MAT)، غریب مریضوں کے لیے کینسر علاج و انتظامی فنڈ (CTMFFP) اور دیگر سرکاری اسکیموں سے دستیاب تمام فوائد حاصل کر چکا ہو۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ امداد علاج کے تمام اخراجات پورے نہیں کرے گی بلکہ ہر مریض کیلئے مقررہ مالی حد کے مطابق جزوی مدد فراہم کی جائے گی۔حکم نامے کے مطابق، رقم براہ راست منظور شدہ اسپتال یا طبی ادارے کو ادا کی جائے گی۔










