نگران نیوز
سری نگر//جموں و کشمیر کرائم برانچ کیاکنامک آفینسز ونگ کشمیر نے تقریباً ڈھائی کروڑ روپے مالیت کے مبینہ شال فراڈ کیس میں چار ملزمان کے خلاف تحقیقات مکمل کرنے کے بعد عدالت میں چالان (چارج شیٹ) پیش کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق مقدمہ مبینہ طور پر قیمتی کشمیری شالوں کی خرید و فروخت کے نام پر دھوکہ دہی اور مالی فراڈ سے متعلق ہے، جس میں مدعی کو بھاری مالی نقصان پہنچایا گیا۔سرکاری بیان کے مطابق ایف آئی آر نمبر 55/2022، جو رنبیر پینل کوڈ کی دفعات 420 (دھوکہ دہی)، 120-بی (مجرمانہ سازش)** اور 201 (شواہد مٹانے) کے تحت درج کی گئی تھی، کی مکمل تحقیقات کے بعد چارج شیٹ سب جج اسمال کازز، سرینگر کی عدالت میں پیش کی گئی ہے۔ چارج شیٹ میں نامزد ملزمان کی شناخت ارشد احمد شورہ عرف بلال، فردوس احمد میر، فردوس احمد بٹ اور آفتاب احمد شاہ کے طور پر کی گئی ہے، جو تمام سرینگر کے رہائشی ہیں۔کرائم برانچ کے مطابق مقدمہ ایک شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ مرکزی ملزم ارشد احمد شورہ عرف بلال اور اس کے ساتھیوں نے مدعی کو زیادہ منافع کا لالچ دے کر اس سے ڈھائی کروڑ روپے سے زائد مالیت کی قیمتی کشمیری شالیں حاصل کیں۔ تاہم شالوں کی کھیپ وصول کرنے کے بعد ملزمان نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی، جس کے نتیجے میں مدعی کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔تحقیقات کے دوران اکنامک آفینسز ونگ نے کارروائی کرتے ہوئے 338 قیمتی شالیں برآمد کیں، جن کی مالیت تقریباً 68 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ یہ شالیں مجاز عدالت کی ہدایت پر قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد مدعی کے حوالے کر دی گئی تھیں۔یو این ایس کے مطابق کرائم برانچ نے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد تمام شواہد، گواہوں کے بیانات اور دیگر دستاویزات کی بنیاد پر عدالت میں چارج شیٹ داخل کر دی گئی ہے، جہاں اب ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔










