نگران نیوز
سری نگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ 1947 کی تقسیم ہند کے زخم تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود مکمل طور پر نہیں بھرے ہیں اور اس دردناک سانحے کے دوران جان و مال کا نقصان اٹھانے، اپنے گھروں سے بے دخل ہونے اور ناقابل بیان مصائب جھیلنے والے لاکھوں افراد کو یاد رکھنا انسانیت کے تئیں ایک اہم فرض ہے۔بق جمعہ کو سرینگر کے ٹیگور ہال میں ’’تقسیم ہند کے ہولناک واقعات کی یاد کا دن‘‘ کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ دن صرف تاریخ کے ایک دردناک باب کو دہرانے کا موقع نہیں بلکہ ماضی کے تلخ تجربات سے سبق حاصل کرنے، خود احتسابی کرنے اور قومی عزم کو مضبوط بنانے کا بھی دن ہے تاکہ ماضی جیسے سانحات دوبارہ رونما نہ ہوں۔منوج سنہا نے کہا کہ آج ملک کے لوگ ایک قوم، ایک خاندان اور ایک اجتماعی شعور کے طور پر ان افراد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں جنہوں نے تقسیم کے دوران بے پناہ تکالیف برداشت کیں اور اپنی جانیں گنوائیں۔انہوں نے کہا کہ تقسیم ہند انسانی تاریخ کے ان المناک واقعات میں شامل ہے جس نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو براہ راست متاثر کیا۔ بے شمار خاندان اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے، بستیاں اجڑ گئیں، خاندان بچھڑ گئے اور مختلف برادریاں ایک دوسرے سے جدا ہو گئیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ تقسیم کو تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود اس سانحے کے زخم مکمل طور پر مندمل نہیں ہو سکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نسلیں گزر جانے کے باوجود ہندوستان کے اجتماعی شعور میں تقسیم کا ایک ایسا درد موجود ہے جسے وقت بھی مکمل طور پر ختم نہیں کر سکا۔ تقسیم کے دوران جن لوگوں نے اپنے پیاروں کو کھویا، گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور اپنی زندگیاں ازسرنو شروع کیں، ان کی قربانیوں اور جدوجہد کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔یو این ایس کے مطابق منوج سنہا نے کہا کہ ’’تقسیم ہند کے ہولناک واقعات کی یاد کا دن‘‘ ان افراد کو یاد کرنے کا موقع ہے جن کی آوازیں اس دور کے تشدد، ہجرت اور المیے میں دب گئیں۔انہوں نے کہا کہ تقسیم کے متاثرین کے درد کو تاریخ کی گرد میں دفن نہیں ہونے دیا جائے گا اور انہیں یاد رکھنا انسانیت کے تئیں ایک مقدس ذمہ داری ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے زور دیا کہ متاثرین کی یادوں کو سچائی، دیانت داری اور ہمدردی کے ساتھ محفوظ رکھنا چاہیے کیونکہ یہی ان لوگوں کو دیا جانے والا سب سے بڑا خراج عقیدت ہوگا جنہوں نے اپنی زندگیاں اور اپنے پیاروں کو اس المیے میں کھو دیا۔انہوں نے 14 اگست کو ’’تقسیم ہند کے ہولناک واقعات کی یاد کا دن‘‘ کے طور پر منانے کے فیصلے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن ملک کے اجتماعی قومی شعور کا مستقل حصہ بننا چاہیے۔سنہا نے کہا کہ تقسیم کی یاد کو صرف تاریخ کی کتابوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک سبق کے طور پر محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ نوجوان نسل کو خاص طور پر اس بات سے آگاہ کرنا ضروری ہے کہ تقسیم صرف جغرافیائی سرحدوں کی تبدیلی یا سیاسی واقعہ نہیں تھا بلکہ اس کی انسانی قیمت انتہائی بھاری تھی۔انہوں نے کہا کہ تقسیم کے نتیجے میں خاندان ٹوٹ گئے، لوگ اپنے آبائی گھروں سے محروم ہوئے اور لاکھوں افراد کو نامعلوم مقامات پر نئی زندگی شروع کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔سنہا نے کہا کہ بے شمار لوگوں کے لیے وہ دور ایسا تھا جب زندگی اچانک بدل گئی، گھر چھن گئے، خاندان بکھر گئے اور لوگوں کو خوف اور غیر یقینی صورتحال کے درمیان اپنا مستقبل تلاش کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ ان لوگوں کی کہانیاں محفوظ رکھی جائیں جنہوں نے ہجرت اور بے دخلی کے بعد اجنبی ماحول میں اپنی زندگیاں دوبارہ تعمیر کیں۔انہوں نے تقسیم کے دوران ہونے والے تشدد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والے واقعات پیش آئے اور خواین، بچوں اور مردوں سمیت بے شمار افراد تشدد کا شکار ہوئے۔یو این ایس کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ تقسیم کی داستان صرف درد، تباہی اور بچھڑنے کی کہانی نہیں بلکہ یہ انسانی حوصلے، جدوجہد، صبر اور ازسرنو تعمیر کی بھی ایک مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے اپنے گھر، زمین، جائیداد اور بعض صورتوں میں اپنے خاندان کے افراد تک کھو دیے، انہوں نے اپنی ہمت، سخت محنت اور خود اعتمادی کے ذریعے دوبارہ زندگی کی تعمیر کی۔سنہا نے کہا کہ تقسیم کے بعد بے گھر ہونے والے خاندان جب نئے علاقوں میں آباد ہوئے تو وہ صرف اپنی زندگیوں کو دوبارہ تعمیر کرنے تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے ان علاقوں کی سماجی، ثقافتی اور اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ مختلف علاقوں سے آنے والے خاندان اپنی زبانیں، ثقافتی روایات اور اقدار بھی اپنے ساتھ لائے، جس سے ان خطوں کی ثقافتی اور سماجی شناخت مزید متنوع اور مضبوط ہوئی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ان خاندانوں کی جدوجہد آج بھی یہ پیغام دیتی ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، انسانی عزم اور حوصلہ مشکلات اور تاریکی پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔منوج سنہا نے کہا کہ تقسیم ہند نے جموں و کشمیر کو بھی گہرے طور پر متاثر کیا۔ اس عمل کے نتیجے میں کئی خاندان جدا ہوئے اور مختلف برادریوں کو اپنے آبائی علاقوں اور گھروں سے بے دخل ہونا پڑا۔انہوں نے کہا کہ برصغیر کے مختلف حصوں سے نقل مکانی کر کے جموں و کشمیر آنے والے خاندانوں نے شدید مشکلات کے باوجود یہاں اپنی زندگیاں دوبارہ تعمیر کیں اور خطے کی سماجی و ثقافتی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے ان تمام خاندانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے سب کچھ کھونے کے باوجود حوصلہ نہیں ہارا اور ایک نئے ماحول میں اپنی زندگیوں کا آغاز کیا، ان کی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔انہوں نے محکمہ ثقافت جموں و کشمیر کی بھی ستائش کی، جس نے تقسیم ہند کی یادوں اور اس سانحے سے جڑے اسباق کو معاشرے کے مختلف طبقات تک پہنچانے کے لیے اس طرح کے پروگراموں کا اہتمام کیا۔یو این ایس کے مطابق جموں و کشمیر کے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ تقسیم کو صرف تاریخ کے ایک واقعے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ ان لاکھوں خاندانوں کی یاد اور وراثت ہے جنہوں نے اس دور کے تلخ حالات کا سامنا کیا۔انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ماضی کی غلطیاں، نفرتیں اور تقسیم کی تلخیاں مستقبل میں دوبارہ جنم نہ لیں۔سنہا نے کہا کہ نوجوان نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں اعتماد، بھائی چارے اور باہمی احترام کو فروغ دے اور ان عناصر کو مضبوط کرے جو لوگوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ایسی جگہوں پر بھی اعتماد اور یقین کے مضبوط پل تعمیر کرنے ہوں گے جہاں ماضی میں دیواریں کھڑی نہیں تھیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ملک اور جموں و کشمیر کے لیے اجتماعی وڑن ایسا ہونا چاہیے جس میں سماجی ہم آہنگی، پرامن بقائے باہمی، استحکام اور قومی یکجہتی کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔تقسیم ہند کے ہولناک واقعات کی یاد کے موقع پر انہوں نے عوام، بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ماضی کے سانحات سے سبق حاصل کرتے ہوئے امن، باہمی بھائی چارے، اخلاقی اقدار، سماجی ہم آہنگی اور قومی اتحاد کے لیے اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو وقف کرنے کا عہد کریں۔منوج سنہا نے کہا کہ ماضی کے درد کو یاد رکھنے کا مقصد نفرت یا تقسیم کو زندہ رکھنا نہیں بلکہ انسانی تکالیف سے سبق حاصل کرتے ہوئے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں باہمی اعتماد، امن اور بقائے باہمی کو فروغ حاصل ہو اور آنے والی نسلوں کو ماضی جیسے المیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔










