نگران نیوز
سری نگر//جموں و کشمیر کو قومی گیس گرڈ سے جوڑنے کا طویل انتظار اب ٹائم لائن کے ایک بڑے چیلنج سے دوچار ہے۔ گورداسپور سے جموں تک 160 کلومیٹر طویل قدرتی گیس پائپ لائن کی تکمیل کے لیے مقرر جولائی 2026 کی مدت گزر چکی ہے، جبکہ جموں سے سرینگر تک مجوزہ 325 کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن منصوبے کے عملی نفاذ اور پیش رفت کی صورتحال بھی ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہے۔ یہ صورتحال پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران پیش کی گئی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ’’قدرتی گیس کی فراہمی اور تقسیم: چیلنجز اور امکانات‘‘ سے سامنے آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم اور قدرتی گیس ریگولیٹری بورڈ نے 12 جولائی 2023 کو گیل انڈیا لمیٹڈ کو گرداسپور،جموں قدرتی گیس پائپ لائن بچھانے کی منظوری دی تھی۔ 160 کلومیٹر طویل اس پائپ لائن کی مجاز صلاحیت 3.1 ملین میٹرک اسٹینڈرڈ کیوبک میٹر یومیہ رکھی گئی اور اس منصوبے کا بنیادی مقصد جموں و کشمیر کو قومی گیس گرڈ سے جوڑنا اور خطے کو نسبتاً صاف ستھرا قدرتی ایندھن فراہم کرنا ہے۔پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی معلومات کے مطابق منصوبے کی تکمیل جولائی 2026 تک مقرر تھی، تاہم یہ مدت اب گزر چکی ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی کوئی تازہ سرکاری وضاحت موجود نہیں کہ آیا پائپ لائن کا کام مکمل ہو چکا ہے، اسے کمیشن کیا گیا ہے یا اسے عملی طور پر شروع کر دیا گیا ہے۔ اس طرح جموں و کشمیر کے قومی گیس گرڈ سے رابطے کے پہلے اور اہم مرحلے کی موجودہ صورتحال غیر واضح ہے۔دوسری جانب سرینگر اور وادی کشمیر کی قدرتی گیس ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پی این جی آر بی نے جموں سے سرینگر تک 325 کلومیٹر طویل قدرتی گیس پائپ لائن بچھانے کے لیے 2024 میں بولیاں طلب کی تھیں۔ مجوزہ پائپ لائن کو گیل کی گورداسپور-جموں پائپ لائن سے جوڑا جانا تھا۔تاہم، رپورٹ میں بولیاں طلب کیے جانے کے بعد اس منصوبے کی پیش رفت کے بارے میں کوئی واضح تفصیل موجود نہیں۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ بولی کے عمل کا کیا نتیجہ نکلا، منصوبے کی منظوری کس ادارے کو دی گئی، تعمیراتی کام شروع ہوا یا نہیں، منصوبے کی جسمانی پیش رفت کتنی ہے اور اس کی تکمیل یا کمیشننگ کے لیے کیا نئی ٹائم لائن مقرر کی گئی ہے۔ دونوں منصوبے ایک دوسرے سے براہ راست منسلک ہیں۔ گرداسپور،جموں پائپ لائن جموں و کشمیر کو قومی گیس گرڈ سے جوڑنے کا بنیادی ذریعہ ہے، جبکہ مجوزہ جموں،سرینگر پائپ لائن اس رابطے کو وادی کشمیر تک وسعت دینے اور سرینگر خطے کی گیس ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم تصور کی جا رہی ہے۔اس معاملے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ جموں و کشمیر کو مکمل طور پر سٹی گیس ڈسٹری بیوشن فریم ورک کے تحت لایا جا چکا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق پورے جموں و کشمیر کو دو جغرافیائی علاقوں میں تقسیم کرتے ہوئے سٹی گیس ڈسٹری بیوشن انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے منظوری دی گئی ہے۔جموں، ادھم پور، ریاسی، سانبہ اور کٹھوعہ اضلاع پر مشتمل پہلے جغرافیائی علاقے کو مارچ 2022 میں انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ کے سپرد کیا گیا تھا۔ کم از کم ورک پروگرام کے تحت کمپنی کو 30 ستمبر 2034 تک 14 لاکھ 52 ہزار 352 گھریلو پائپڈ نیچرل گیس کنکشن فراہم کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔دوسرا جغرافیائی علاقہ، جس میں اننت ناگ، بانڈی پورہ، بارہمولہ، بڈگام، ڈوڈہ، گاندربل، کشتواڑ، کولگام، کپواڑہ، پونچھ، پلوامہ، راجوری، رام بن، شوپیاں اور سرینگر اضلاع شامل ہیں، اپریل 2024 میں بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ کو دیا گیا۔ اس علاقے کے لیے کم از کم ورک پروگرام کے تحت 30 جون 2032 تک 30 ہزار 804 گھریلو پی این جی کنکشن فراہم کرنے کا ہدف مقرر ہے۔ماہرین کے مطابق سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کی کامیابی اور گھریلو صارفین تک پائپ کے ذریعے قدرتی گیس کی فراہمی کا انحصار قابلِ اعتماد گیس سپلائی اور بنیادی پائپ لائن انفراسٹرکچر پر ہوگا۔










