نگران نیوز
سرینگر// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر حکومت نوجوان کاروباریوں اور اختراعی صلاحیتوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کے لیے ایک مضبوط اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام قائم کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ناکامی سے خوفزدہ ہونے کے بجائے کوشش نہ کرنے سے ڈریں، کیونکہ ہر ناکامی کامیابی کی جانب ایک نیا سبق ثابت ہوتی ہے۔وہ جمعرات کو سرینگر کے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں منعقدہ تین روزہ جموں کشمیر، اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم سمٹ،2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس سمٹ کا مقصد نوجوانوں کے نئے کاروباری تصورات کو رہنمائی، سرمایہ کاری، نیٹ ورکنگ اور حکومتی پالیسیوں کی مدد سے کامیاب کاروبار میں تبدیل کرنا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم سمٹ 2026 کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر تیار کیا گیا ہے جہاں اختراعی خیالات، سرمایہ کاری، حکومتی پالیسیاں اور مارکیٹ کے مواقع ایک جگہ جمع ہوں، تاکہ نوجوان اپنے ابتدائی خیالات کو نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ ملک اور بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچا سکیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوان اختراع کاروں سے ملاقات ہمیشہ ان کے لیے امید اور اعتماد کا باعث بنتی ہے، کیونکہ وہ روزمرہ زندگی کے حقیقی مسائل کے عملی اور جدید حل تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔سمٹ میں پیش کی گئی اختراعات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے سردیوں میں پانی کی پائپ لائنوں کو جمنے سے بچانے والے سینسر پر مبنی نظام، ڈیجیٹل واٹر میٹرز، ڑالہ باری سے فصلوں کے تحفظ کے جال، کاربن مونو آکسائیڈ ڈیٹیکشن سسٹم اور خودکار گیس ریگولیٹر حفاظتی نظام جیسے منصوبوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام ایجادات نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور مقامی مسائل کے عملی حل تلاش کرنے کی صلاحیت کا مظہر ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اس وقت جموں و کشمیر میں تقریباً 1300 سے 1400 اسٹارٹ اپس فعال ہیں اور حکومت کو یقین ہے کہ اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم سمٹ2027، تک ان کی تعداد دوگنی ہو جائے گی۔










