نگران نیوز
سری نگر//بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب سرحد پار دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہو تو ایسے حالات میں سندھ طاس معاہدے کے تحت باہمی اعتماد اور خیرسگالی پر مبنی تعاون کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ بھارت نے ایک بار پھر واضح کیا کہ جموں و کشمیر ہمیشہ سے بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ رہا ہے، ہے اور رہے گا۔یہ بیان اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے سفیر پروتھنی ہریش نے قدرتی وسائل کے نظم و نسق، امن، سلامتی اور خوشحالی کے موضوع پر سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی مباحثے کے دوران پاکستان کے مؤقف کے جواب میں دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس عالمی فورم کو ایک "جھوٹا بیانیہ” پیش کرنے کے لیے استعمال کیا، جس پر بھارت کو وضاحت دینا ضروری ہوگیا۔بھارتی مندوب نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے بارے میں بھارت کا مؤقف واضح اور مستقل ہے۔ ان کے مطابق باہمی اعتماد اور خیرسگالی کے بغیر کسی بھی معاہدے پر مؤثر تعاون ممکن نہیں، جبکہ پاکستان مسلسل سرحد پار دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو متاثر کرتا ہے۔ جموں و کشمیر کے حوالے سے بھارتی مندوب نے کہا کہ یہ بھارت کا آئینی اور قانونی طور پر اٹوٹ حصہ ہے اور اس حقیقت کو پاکستان جان بوجھ کر نظر انداز کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر سے متعلق واحد حل طلب مسئلہ وہ علاقے ہیں جو پاکستان کے "غیر قانونی قبضے” میں ہیں، اور پاکستان کو بھارت پر الزام تراشی کے بجائے اپنے داخلی معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔










