نگران نیوز
سری نگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے دریائوں کے پانی پر پاکستان کا دعویٰ کرنا مضحکہ خیز ہے کیونکہ جموں و کشمیر کے دریائوں پر سب سے پہلا حق یہاں کیء عوام کا ہے۔عبداللہ کی تنقید انڈس واٹر ٹریٹی (IWT) پر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے تبصروں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سامنے آئی۔عبداللہ نے صحافیوں کو بتایا”ہم ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ ہمارا خون چوسا گیا ہے، یہ ہمارے دریا ہیں، ان پر پہلا حق ہمارا تھا، پاکستانی کہتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کے بڑے ہمدرد ہیں، لیکن جب پانی کی بات آتی ہے تو ان کی ہمدردی ختم ہو جاتی ہے، جب ہمیں اپنے دریا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تو ان کی ہمدردی کہاں تھی؟” ۔انہوں نے کہا کہ چھ دریائوں میں سے، بھارت نے تین اپنے پاس رکھے، جن کا تعلق پنجاب سے تھا، اور "ہمارے تین دریا پاکستان کے حوالے کر دیے گئے”، اور اس کے بعد سے جموں کشمیر کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت سے لے کر آج تک ہم اس سندھ واٹر ٹریٹی کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ ہم نہ تو چناب سے پینے کا پانی نکال سکے اور نہ ہی تلبل پر بیراج بنا کر جہلم کو نیویگیشن کے لیے استعمال کر سکے اور نہ ہی اپنے کسی دریا پر کوئی بڑا ڈیم بنا کر پانی روک سکے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا” اب جب کہ سندھ طاس معاہدہ منسوخ ہو چکا ہے، اسے منسوخ ہی رہنا چاہیے تاکہ ہم اس پانی کا صحیح استعمال کر سکیں،”










