سرینگر:بالائی ورکروں سے نمٹنے فوج اور حفاظتی ایجنسیوں کیلئے ایک چلینج قرراردیتے ہوئے چنار کور کے جی او سی لیفٹیننٹ جنرل پانڈے نے بتایا ہے کہ او جی ڈبلیو پاکستانی نیٹ ورک کا حصہ ہے اور یہ ملٹنسی سے بھی زیادہ خطرہ ہے ۔ چنار کور کے جی او سی لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے کہا کہ وادی میں ملٹنسی سے جدید ترین طریقوں سے نمٹا جا رہا ہے۔ OGW پاکستانی نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ وادی میں امن قائم کرنے کے لیے ان سے نمٹنا ضروری ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈانڈیا کے مطابق فوج کے 15ویں کور سربراہ لیفٹیننٹ پانڈے نے عسکریت پسندوں کیلئے بالا زمین کام کرنے والے ورکروں کو زیادہ خطرناک قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ او جی ڈبلیو پاکستان کے نیٹ ورک کا حصہ ہے جن سے نمٹنا فوج اور دیگر حفاظتی ایجنسیوں کیلئے ایک چلینج بن گیا ہے ۔ اوور گراؤنڈ ورکرز جموں و کشمیر میں جنگجوئوں سے زیادہ خطرناک ہیں۔ جو پاکستان کے کہنے پر وادی میں بھٹکنے والے نوجوانوں کو مالی مدد فراہم کرکے ان کے ذریعے تشدد پھیلاتے ہیں۔ یہ بات چنار کور کے جی او سی لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے یہاں منعقدہ دو روزہ سیمینار کے پہلے دن اپنے افتتاحی خطاب میں کہی۔سرینگر کی فوجی چھاونی بی بی کینٹ میں فوجی کمانڈر نے کہا کہ وادی میں عسکریت پسندی سے متحرک انداز میں نمٹا جا رہا ہے۔ OGWs پاکستانی نیٹ ورک کا حصہ ہیں جن سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ وادی میں امن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ آرمی مینجمنٹ اسٹڈیز بورڈ (AMSB) کے زیر اہتمام سمپوزیم میں او جی بلیواور چلینج کے موضوع پر منعقد تقریب میںسابق چنار کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ڈاکٹر) سبرت ساہا (ریٹائرڈ) اور لیفٹیننٹ جنرل اے کے بھٹ (ریٹائرڈ) کے ساتھ اسپیشل ڈی جی سی آئی ڈی آر آر سوین، آئی جی کشمیر وجے کمار، آئی جی پی کشمیر نے سیمینار میں شرکت کی۔یہ سمپوزیم دو دنوں میں پانچ سیشنوں میں منعقد کیا جا رہا ہے اور اس میں جموں و کشمیر کے اندر اور باہر سے محققین، صحافیوں، کارکنان، حاضر سروس اور ریٹائرڈ سرکاری افسران سمیت اس موضوع کے سرکردہ ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔










